دفعہ 370 ۔۔ کشمیری عوام کیلئے ملک کا عزم

 نئی دہلی میں سرکردہ انگریزی اخبار انڈین ایکسپریس کی طرف سے منعقدہ ایک مباحثے بعنوان ایکسپریس اڈا میں شرکت کے دوران ریاستی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے بار بار دفعہ 370کا تذکرہ کیا اور کہا کہ آرٹیکل 370جموں کشمیر کے عوام کیلئے ملک کا عزم ہے اور اس کا ہر صورت میں احترام کرنا چاہئے۔ اس کے علاوہ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کو بے مثال منڈیٹ حاصل ہے اور کشمیر کے بارے میں وہ روایت کو تبدیل کرکے تاریخ رقم کرسکتے ہیں۔ انہوں نے قومی ٹی وی چینلوں کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ ان کو کشمیر اورکشمیریوں کے بارے میں مثبت سوچ کی عکاسی کرنی چاہئے اور اپنے بحث مباحثوں کے پروگرام کو ایسے ڈھنگ سے ترتیب دینا چاہئے تاکہ ایک خوشنما اور مثبت صورتحال سامنے لانے میں مدد مل سکے۔ انہوں نے کہا کہ صورتحال کے حوالے سے نیشنل میڈیا کے ایک طبقے کا رول مثبت نہیں رہا ہے اور وادی کے حالات بہتر بنانے میں نیشنل میڈیا سنجیدگی سے مدد نہیں کررہا ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے بہت سی دیگر باتوں کا بھی تذکرہ کیا۔ وزیر اعلیٰ نے خاص طورپر مرکز کی طرف سے جامع مذاکراتی عمل کو حالات میں بہتری لانے کیلئے موثر قدم قرار دیا۔ جب وزیر اعلیٰ نے نریندر مودی کا تذکرہ کیا کہ وہ کشمیر کے بارے میں روایات سے ہٹ کر اہم فیصلہ کرسکتے ہیں تو بالکل صحیح ہے۔ موجودہ مرکزی حکومت کو اس وقت عوام کا ایسا منڈیٹ حاصل ہے کہ وہ کشمیر کے بارے میں کوئی بھی ایسا فیصلہ لے سکتی ہے جو کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوسکتا ہے۔ سال 1953سے اب تک مرکز میں زیادہ تر کانگریس کا ہی راج رہا ہے لیکن جو منڈیٹ وزیر اعظم نریندر مودی کو لوگوں نے دیا ہے وہ اب تک کسی بھی وزیر اعظم کے حصے میں نہیں آیا ہے اسلئے وہ کشمیر کے بارے میں کوئی بھی فیصلہ لے سکتے ہیں اور آج سے جو یہاں مذاکراتی عمل شروع ہورہا ہے اس کو مثبت سوچ اور اپروچ سے شروع کیاجانا چاہئے۔ کیونکہ کشمیری عوام نے اس بات کا بار بار مشاہدہ کیا ہے اور جیسا کہ اس سے قبل ان ہی کالموں میں اس بات کا ذکر کیاگیا ہے کہ اب تک جتنے بھی مذاکراتی دور ہوئے وہ محض براے نام تھے کیونکہ ان کی طرف سے پیش کردہ رپورٹوں کو نظرانداز کیاجاتا رہا ہے۔ لیکن اگر اب کی بار بھی ایسا ہی ہوگا تو لوگوں کا مذاکراتی عمل سے اعتبار اٹھ جائے گا۔ یہ الگ بات ہے کہ کون بات کرنے آتا ہے اور کون نہیں لیکن اس کو سنجیدہ بنانے کی مرکز کو ہرممکن کوشش کرنی چاہئے کیونکہ اس بارے میں وزیر اعلیٰ اور وزیر داخلہ بار بار عوام سے وعدہ کرچکے ہیں کہ یہ وقت کا ضیاع نہیں بلکہ مرکز اس سے کشمیر میں بقول ان کے مسایل کو حل کرنا چاہتا ہے۔ اس کے علاوہ وزیر اعلیٰ نے دفعہ 370کابھی ذکر کیا اور کہا کہ یہ ملک کا کشمیریوں کیساتھ ایک تاریخی وعدہ اور عزم ہے اسلئے مرکز کو وزیر اعلیٰ کے ان وعدوں کا پاس لحاظ کرنا چاہئے اور دفعہ 370ہو یا آرٹیکل 35-Aہو اس کو ہر صورت میں قایم و دایم رکھاجانا چاہئے ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں