سپورٹس کونسل نے عیدگاہ کے تاریخی میدان میں فٹ بال کی سر گرمیوں کو نظر انداز کیا

سرینگر :۔ ایم ایم میرمطابق یہ حقیقت ہے کہ کھیلو انڈیا کے اس نعرے تحت عیدگاہ کے تاریخی فٹ بال اور کرکٹ کے میدان میں کھیلوں کے پروگراموں کی عدم موجود گی نے سپورٹس کونسل پر ایک سوالیہ کھڑا کر دیا ہے۔ آج سے 40سال پہلے عید گا ہ میں فٹ بال ٹورنامنٹوں کے انعقاد سے چمک اُٹھتے تھے لیکن آج یہ میدان ریگستان کی سنسان اور ما حولیاتی الود گی میں ڈوبے ہوئے ہیں جس کی ذمہ داری صرف سپورٹس پر عاید ہو تی ہے۔ جس پر کھیلوں کے غیر معیاری میدانوں کی از سر نو تعمیر و تجدید کی ذمہ داری بھی سپورٹس کونسل پر عاید ہو تی ہے۔ افسوس کا مقام یہ ہے کہ سیکریٹری سپورٹس کونسل نے عیدگاہ کے تاریخی میدان میں اور پولوگراونڈ کے ہاکی فیلڈ میں آج تک آنے کی زحمت گوارا نہیں کی یہ میدان گرد وغبار اور خطر ناک موحولیاتی آلود گی سے بُری طرح خراب ہو چکے ہیں۔ ہزاروں کھلاڑیوں کی صحت متاثر ہو چکی ہے۔ عیدگاہ کا یہ تاریخی میدان ایک وقت فٹ بال کھیل کی نا مور اکیڈمی ہوا کرتی تھی۔ یہاں سپورٹس کونسل نے دوسرے کھیلوں کیلئے Sports Infrastractureکھڑا نہیں کئے۔ آجکل تقریباً250فٹ بال کھلاڑی سینئیر فٹ بال کھلاڑیوں کی سر براہی میں کوچنگ سیکھتے نظر آتے ہیں۔ حیرت کا مقام ہے کہ SRTCکے نامور فٹ بال کھلاڑی نذیر احمد نے اپنی طرف سے 15000/-روپیوں سے فٹ بال گول پوسٹ خریدکر میدان میں لگا دیا ہے۔ جو ایک کھلاڑی کیلئے قابل تعریف قدم ہے۔ حالانکہ مرکزی اور ریاستی حکومت نے سپورٹس کونسل کو کروڑوں روپیوں کا پیکیج کھیلوں کے بنیادی ڈھانچے کیلئے فراہم کئے ہیں جن کا باضابط استعمال نہیں ہو رہا ہے۔ عید گاہ کے تاریخی میدان میں اس سال بھی سپورٹس کونسل فٹ بال کے ٹورنامنٹوں کے انعقاد کرنے میں سرا سر نا کام رہی ہے۔ یہاں کے ہزاروں لوگ سپورٹس کونسل پر الزام عاید کرتے ہیں کہ انہوںنے عید گاہ کے تاریخی میدان کھیلوں کے سر گرمیوں سے جان بوجھ کر نظر انداز کیا ہے۔ اور SRTCٹرف پر ہی اپنی سرگرمیاں محدود کر کے رکھ دی ہے جو سپورٹس کونسل کے آئینی اصولوں کے خلاف ہے۔ اس طرح عید گاہ کے کھلاڑیوں کو قومی اور انٹر نیشنل مقابلوں میں شرکت کرنے کے راستے بند ہو گے ہیں۔ اس سال کبھی بھی وزیر اعلیٰ اور وزیر کھیل نے اس تاریخی کھیل کے میدان کی طرف رُخ کرنے کی زحمت گوارا نہیں کی جس سے ہزاروں شایقین میں ناراضگی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ بحیثیت سابقہ ڈائریکٹر فزیکل ایجوکیشن ، سپورٹس را ئیٹر اور فٹ بال کوچ امرسنگھ کالج میں وزیر کھیل اور سیکریٹری سپورٹس کونسل سے ہزاروں کھلاڑیوںکی طرف سے مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ عید گاہ کے تاریخی میدان میں فٹ بال کے ٹورنامنٹوں کے انعقاد کو یقینی بنائیں تاکہ یہاں کے کھلاڑیوں کے حقوق کا تحفظ ہو سکے۔ حالانکہ یہاں کے سینئیر فٹ بال کھلاڑیوں کو فٹ بال کے ٹورنامنٹوں کو چلانے کی بھر پور ٹیکنیکی صلاحتیں موجود ہیں۔ ہمیں عید گاہ کے لاکھوں لوگوں کے جذبات اور احساسات کا احترام کرنا چاہئے۔ کھیلوں کے پروگرم عید گاہ میں بلا امتیاز چلانے سے کھلاڑیوں اور کھیلوں کا معیار بہتر بن سکتا ہے۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں