جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی، زیادہ چھوٹے موٹے مجرم

نئی دہلی/یواین آئی/ ملک کی جیلوں میں گنجائش سے تقریبا 53 ہزار زیادہ قیدی ہیں اور ان میں سے زیادہ تر ایسے غریب قیدی ہیں جو بہت چھوٹے موٹے جرائم میں سزا یافتہ ہیں اور جرمانہ نہ ادا کر پانے کی وجہ سے رہا نہیں ہو پا رہے ہیں۔ خواتین کو بااختیار بنانے سے متعلق پارلیمنٹ کی کمیٹی نے جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدیوں کے ہونے پر ناراضگی کاا ظہار کیا ہے ۔ کمیٹی نے وزارت داخلہ کے اعداد و شمار کے حوالے سے بتایا ہے کہ جیلوں میں سب سے زیادہ بھیڑ چھتیس گڑھ میں 233 فیصد، دہلی میں 226 فیصد، میگھالیہ میں 177 فیصد، اترپردیش میں 166 فیصد اور مدھیہ پردیش میں 139 فیصد ہے ۔اس نے اس بات پر حیرانی ظاہر کی ہے کہ کچھ جیلوں میں یہ شرح 300 فیصدسے بھی زیادہ ہو سکتی ہے ۔ 2015 کے اعداد و شمار کے مطابق ملک کی کل 1401 جیلوں میں تین لاکھ 66 ہزار 781 گنجائش کے مقابلے چار لاکھ 19 ہزار 623 قیدی تھے ۔گنجائش سے زیادہ ہونے کی وجہ سے قیدیوں کو صفائی، کھانے پینے اور صحت کی دیکھ بھال جیسی بنیادی سہولیات بھی نہیں مل پاتی ہیں جس سے وہ جلدی بیماری، تپ دق اور ایڈز جیسی بیماریوں میں مبتلا ہو رہے ہیں۔ مختلف جیلوں میں تشددمیں سزا پائے مجرموں کے مقابلے ایسے قیدیوں کی تعداد زیادہ ہے جو بے ٹکٹ سفر کرنے اور ٹرینوں میں چین پلنگ جیسے چھوٹے موٹے جرائم میں پکڑے گئے اور جرمانے کی رقم ادا نہ کر پانے کی وجہ سے رہا نہیں ہو پا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ زیر التوا قیدیوں کی تعداد بڑھنے اور غیر ضروری گرفتاریوں کی وجہ سے بھی جیلوں میں بھیڑ کا مسئلہ سنگین ہوتا جا رہا ہے ۔ پارلیمنٹ کے گزشتہ سرمائی اجلاس میں پیش اس رپورٹ میں کمیٹی نے نیشنل پولیس کمیشن کی رپورٹ کے حوالے سے بتایا کہ مجموعی گرفتاریوں میں سے 66 فیصد ایسی تھیں جو یا تو غیر ضروری تھیں یا جن کا کوئی جواز نہیں تھا۔ کمیٹی نے غیر مجرمانہ اور معمولی جرائم میں بند قیدیوں کے معاملات کے حل کے لئے متبادل طور طریقے تلاش کرنے ، باقاعدگی سے جیلوں میں عدالتیں لگانے اور ناپسندیدہ گرفتاریوں سے بچنے کی سفارش کی۔ کمیٹی نے وزارت داخلہ سے کہا ہے کہ وہ صلاحیت سے زیادہ قیدیوں کے سنگین مسئلہ سے نمٹنے کے لئے مقرر ہ وقت میں حکمت عملی تیار کرے اور اس بابت اسے رپورٹ دے ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں