ملک کے 9 ہائی کورٹوں میں چیف جسٹس نہیں

نئی دہلی/یو این آئی/ ججوں کی تقرری سے متعلق عمل ﴿ایم اوپی﴾ پر مرکزی سرکار اور کالجیم کے مابین جاری تعطل کے درمیان ملک کی نو ہائی کورٹوں میں باقاعدہ چیف جسٹس مقرر نہیں ہو سکے ہیں، اگر یہی صورت حال رہی تو آئندہ مئی تک یہ اعداد 12تک پہنچ جائے گی۔ ملک کے بڑے ہائی کورٹوں -دہلی، بمبئی اور کولکاتہ میں طویل عرصے سے باقاعدہ چیف جسٹس مقرر نہیں کئے جا سکے ہیں اور یہاں ایگزیکٹو چیف جسٹس سے کام چلایا جا رہا ہے ۔ کرناٹک، تلنگانہ اور آندھرا پردیش، ہماچل پردیش، جھارکھنڈ، کیرالہ اور منی پور ہائی کورٹ بھی ایگزیکٹو چیف جسٹس کے بھروسے چل رہے ہیں اور اس سال مئی تک تین دیگر ہائی کورٹ - جموں و کشمیر، پنجاب اور ہریانہ اور تری پورہ بھی اسی زمرے میں آنے والے ہیں۔ تری پورہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس جہاں فروری میں رٹائر ہونے والے ہیں، وہیں جموں و کشمیر اور پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس بالترتیب مارچ اور مئی میں رٹائر ہوں گے ۔ اس طرح اگر حالات یوں ہی رہے تو ملک کی کل 24میں سے 12ہائی کورٹوں میں کل وقتی کے بجائے جزوقتی چیف جسٹس ہوں گے ۔ مرکزی حکومت کا کہنا ہے کہ اسے ایگزیکٹیو چیف جسٹس کی طرف سے نو ہائی کورٹوں میں باقاعدہ چیف جسٹس کی تقرری کے لئے سپریم کورٹ کالجیم سے ابھی تک کوئی تجویز ہی نہیں ملی ہے ۔ قانون و انصاف کے وزیر مملکت پی پی چودھری نے گزشتہ دنوں یہ تفصیلات بتائیں۔ مسٹر چودھری کے مطابق، موجودہ ایم او پی کے تحت ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کی تقرری کے عمل کا آغاز عہدے خالی ہونے کی ممکنہ تاریخ سے ایک ماہ پہلے سپریم کورٹ کالیجیم سے ہونی چاہئے تھی، لیکن کچھ وجوہات کی بنا پر اس طریق کار پر عمل نہیں کیا جا سکا ہے ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں