بابری مسجد مقدمہ کے متعلق جارحانہ بیان بازی کرنے والوں کا عدالت ازخودنوٹس لے :مولانا سید ارشدمدنی

دہلی /12مارچ ﴿یو این آئی﴾اسی ہفتے بدھ سے بابری مسجد ملکیت تنازعہ کی سماعت ایک بار پھر سپریم کورٹ میں شروع ہونے کے موقع پر جمعیۃ علمائ ہند ﴿ارشد مدنی﴾ کو اس یقین کا اظہار کیا ہے کہ تاریخی حقائق اور موجوددستاویزات کی بنیادپر ہی بابری مسجد ملکیت تنازعہ میں عدالت اپنا فیصلہ سنائے گی۔ صدر جمعیۃ مولانا سید ارشدمدنی نے اس موقع پر تنازعہ کے تعلق سے حالیہ دنوں کی بیان بازیوں پر گہری تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہاہے کہ اس طرح کی جارحانہ بیان بازی درحقیقت اکثریت کے مذہبی جذبات کو اکسانے کی جارہی ہے جس کا فاضل عدالت کو ازخوداس کا نوٹس لینا چاہئے اور جو لوگ اس طرح کی بیان بازی کرکے ملک کا ماحول خراب کرنے کی سازشیں کررہے ہیں ان پر قدغن لگایا جانا چاہئے ۔ اس بیچ بابری مسجد ملکیت معاملے کی اہم فریق جمعیۃ علمائ ہند نے اپنی تیاریاں مکمل کرلی ہیں ۔ جمعیۃ علمائ ہند ﴿ارشد مدنی﴾ کی قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی نے یہ اطلاع دیتے ہوئے بتایا کہ چیف جسٹس دیپک مشرائ کی سربراہی والی تین رکنی بینچ میں جسٹس عبدالنظیر اور جسٹس بھوشن شامل ہیں ۔ جمعیۃ کی جانب سے سینئر ایڈوکیٹ ڈاکٹر راجو دھون اور ایڈوکیٹ راجو رام چندرن اپنے دلائل پیش کریں گے ۔انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اس سے قبل کی سماعت پر چیف جسٹس آف انڈیا دیپک مشرائ نے ایڈوکیٹ آن ریکارڈ اعجاز مقبول کو ہدایت دی تھی کہ وہ ایگزیبیٹس A37 سے A40 اور 11,52/49,53,83,106کے ترجمے کراکر عدالت میں جمع کرائیں ، عدالت کی ہدایت پر ترجمے کرانے کا عمل تقریباً مکمل ہوچکا ہے اور معاملے کی سماعت پر اسے عدالت میں پیش کردیا جائے گا ۔

واضح ہوکہ عدالت نے دوسرے فریقین کوبھی حکم دیا تھا کہ سنسکرت اور دیگر زبانوں کی کتابوں کے ترجمے دوسرے فریقین اور عدالت کو دیئے جائیں ۔اگر فریقین کے دستاویزات مکمل ہوچکے ہیں تو اب اس معاملہ پر حتمی بحث شروع ہوسکتی ہے ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں