دھان کے بدلے متبادل فصل

    اگرچہ گذشتہ دو دنوں سے وادی میں بارشیں ہورہی ہیں اس کے باوجو د خشک سالی کا خطرہ اب بھی برقرار ہے اور زرعی ماہرین تشویش میں مبتلا ہیں ان کا کہنا ہے کہ اس وقت کی بارشوں سے خشک سالی کا خطرہ ٹل نہیں سکتا کیونکہ پہاڑوں پر گلیئشیر نہیں ہیں جن سے گرمائی ایام کے دوران پانی کی کمی پر قابو پانے میں مدد مل سکتی تھی ۔ان ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی بھی صورت میں جنگی بنیادوں پر اقدامات کرنے ہونگے اس کے ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ تقریباًاسی فی صد علاقوں میں دھان کی فصل اگانے میں مشکلات پیش آسکتی ہیں ۔اسلئے زمیندار متبادل انتظامات کریں اور خاص طور پر موجودہ حالات میں مکئی کی فصل مناسب رہے گی ۔موسم پر کسی کا بس نہیں اور نہ بنی نوع انسان کے دائیرہ اختیار میں یہ سب کچھ ہے ۔اسلئے مناسب تدابیر اٹھانے کے سوا اور کوئی چارہ نہیں ہے ۔اس ضمن میں ناظم زراعت نے جو کچھ کہا وہ باعث تشویش ہے اگرچہ انہوں نے یہ بھی کہا کہ گھبرانے کی ضرورت نہیں لیکن خشک سالی سے جو صورتحال پیدا ہورہی ہے وہ کسی بھی صورت میں حوصلہ افزا قرار نہیں دی جارہی ہے ۔زرعی ماہرین نے کہا کہ اس سال سات ہزار ہیکٹئیر اراضی متاثر ہونے کا احتمال ہے ۔ذرایع سے معلوم ہوا ہے کہ ریاستی حکومت کو ایک تجویز پیش کی گئی ہے جس میں کہا گیا کہ خشک سالی کی وجہ سے اس سال دھان کی فصل کے لئے چونکہ پانی دستیا ب نہیں ہوسکتا ہے اسلئے متبادل فصلوں کو اگانے کے لئے 57کروڑ روپے فراہم کرنے کا سرکار سے مطالبہ کیاگیا ہے ۔ اس سال موسم سرما میں موسم زیادہ تر خشک رہا اور برفباری براے نام ہوئی جس کی بنا پر ندی نالوں میں اس وقت بھی پانی کی سطح بہت نیچے ہے جس کا اثر زندگی کے ہر شعبے پر پڑ رہا ہے ۔بجلی اور پانی کی قلت تو ہے ہی اس سے اب زرعی پیداوار بھی متاثر ہونے لگی ہے۔ محکمہ زراعت نے زمینداروں کے نام ایڈوائیزری جاری کرتے ہوے کہا کہ کہ وہ دھان کے بجاے مکئی کی فصل کو ترجیح دیں ۔کیونکہ محکمہ اری گیشن کھیتوں کو سیراب کرنے کے لئے درکار پانی فراہم کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے ۔ان حالات میں زمینداروں کو بھی مردانہ وار حالات کا مقابلہ کرنے کے لئے کمر کسنے کی ضرورت ہے اور خو د پر مایوسی طاری کرنے کے بجاے انہیں اس بات پر غور کرنا چاہئے کہ وہ کسطرح اور کون سے بیج بوکر اپنے اہل و عیال کے لئے روزی روٹی کا انتظام کرسکیں ۔محکمہ زراعت کو بھی چاہئے کہ صورتحال کو مد نظر رکھ کر ایسے اقدمات اٹھاے تاکہ زمینداروں کا کم سے کم نقصان ہوسکے ۔مختلف علاقوں سے جو اطلاعات موصول ہوئی ہیں ان کے مطابق کئی مقامات پر کھیتوں میں لمبی لمبی دراڑیں پڑ رہی ہیں۔ سوکھا پڑنے سے جہاں کھیت کھلیان تباہی کا منظر پیش کررہے ہیں وہیں پرمیوے کی فصل متاثر ہونے کے امکانات ہیں ان حالات میں محکمہ زراعت اور محکمہ ہارٹیکلچر پر بھاری ذمہ داریاں عاید ہوتی ہیں کہ وہ زمینداروں کو اس مصیبت سے باہر نکالنے کے عملی اقدامات اٹھائیں ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں