سڑکوں پر تعمیراتی میٹیریل اورملبہ

سرینگر میونسپلٹی کی طرف سے حال ہی میں ایک حکمنامہ جاری کیاگیا ہے جس میں کہا گیا کہ جو لوگ سڑکوں پر ملبہ یا تعمیراتی مٹیرئیل جمع کرنے کے مرتکب ہونگے ان کیخلاف سخت قانونی کاروائی کی جائے گی۔ اس بارے میں میونسپلٹی نے کئی علاقوں جن میں برزلہ ، صنعت نگر ، ائیر پورٹ روڈ اور حیدر پورہ وغیرہ شامل ہیں کی نشاندہی کی گئی اور کہا ہے کہ خاص طور پر ان علاقوں میں لوگ مصروف ترین سڑکوں پر ملبہ اور تعمیراتی میٹیر یل رکھ کر نہ صرف آمد و رفت مسدود کرتے ہیں بلکہ اس سے حادثات کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے جس کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ہے۔ اسلئے ایسے لوگوں کو وراننگ دی گئی کہ وہ فوری طور سڑکوں پر سے ملبہ اور تعمیراتی میٹیریل ہٹائیں بصورت دیگر قانونی کاروائی کیلئے تیار رہیں۔ ان لوگوں کو پانچ دنوں کی مہلت دی گئی ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ اس پر کس حد تک عمل ہورہا ہے جبکہ یہ واقعی ایسا قدم ہے جس کی ہر کوئی سراہنا کئے بنا نہیں رہ سکتا ہے کیونکہ سڑکوں پر نا جائیز قبضے سے حادثات کا خطرہ چار گنا زیادہ بڑھ جاتا ہے۔ لیکن اب تک اس کی طرف کسی نے دھیان ہی نہیں دیا ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا متذکرہ بالا علاقوں میں ہی ایسی صورتحال پائی جاتی ہے نہیں ہر گز نہیں بلکہ شہر کے ہر علاقے میں سڑکوں پر ناجائیز قبضہ کیا گیا ہے اور ان کیخلاف اب تک کوئی بھی سنجیدہ کوشش نہیں کی گئی ہے ۔ عام لوگوں کے مفادات کو ہر صورت میں مقدم رکھاجانا چاہئے تاکہ مفاد خصوصی رکھنے والے عناصر کو اپنی سرگرمیاں جاری رکھنے کا موقعہ نہ مل سکے۔ یہ بات سچ ہے کہ سڑکوں پر ملبہ رکھا جاتا ہے یا سڑکوں پر تعمیراتی میٹیر یل کے انبار بھی رکھے جاتے ہیں لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سڑکوں پر جو لوگ تعمیراتی میٹیر یل رکھ کر کاروبار کرتے ہیں ان کیخلاف کوئی کاروائی کیوں نہیں کی جاتی ہے اس کی مثال ملہ کھاہ سے دی جاسکتی ہے جہاں کئی افراد جو تعمیراتی میٹریل کا کاروبار کرتے ہیں سرکاری سڑک پر قبضہ جمائے بیٹھے ہیں اور اینٹ، باجری، سرخی چونا، ریت وغیرہ سڑکوں پر رکھ کر نہ صرف ان لوگوں نے راہ عام مسدود کردی ہے بلکہ عام لوگوں اور خاص طور پر ٹریفک کیلئے مشکلات پیدا کردی ہیں لیکن تعجب اس بات کا ہے کہ یہ سب کچھ پولیس کی ناک کے نیچے ہورہا ہے اور پولیس خاموش تماشائی بنی بیٹھی ہے۔ اسی طرح فٹ پاتھ والوں کی بات نہ کرتے ہوئے اگر دیکھا جائے تو دکاندار ہی فٹ پاتھوں اور سڑکوں پر ناجائیز قبضے کے مرتکب ہورہے ہیں۔ شہر کے اہم بازاروں میں دکانداروں نے سڑکوں پر اپنا مال رکھا ہے اسطرح سڑکیں تنگ ہوگئی ہیں جو بھی حادثات رونمائ ہورہے ہیں ان کی سب سے بڑی وجہ یہ بھی ہے جیسا کہ اوپر ذکر کیاگیا ہے کہ جب تک سڑکوں سے ناجائیز قبضہ ہٹایا نہیں جائے گا خواہ وہ ناجائیز قبضہ کسی نے بھی کیا ہو تب تک سڑکوں پر ٹریفک کی معمول کی بحالی نا ممکن ہے ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں