جموںبند کی کال ناکام

کل یعنی 11اپریل کو بار ایسوسی ایشن کی طرف سے دی گئی ہڑتال کال مکمل طور پر ناکام ہوگئی ہے اور جموں کے باشندوں نے انتہائی بالغ نظری اور دور اندیشی کا مظاہرہ کرکے یہ ثابت کردیا کہ کوئی بھی مفاد خصوصی رکھنے والا ان کو اپنے مکروہ مقاصد کیلئے استعمال نہیں کرسکتا ہے۔ انہوں نے بند کی کال کو ناکام بناتے ہوئے آصفہ کے قاتلوں کو کڑی سے کڑی سزا دینے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ بار ایسوسی ایشن معصوم بچی کے قاتلوں کو بچانے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگارہی ہے جبکہ اس سارے معاملے کو محض انسانیت کی نظر سے دیکھا جانا چاہئے۔ اس میں کسی فرقے، مذہب، ذات یا طبقے کا کوئی پاس لحاظ نہیں ہونا چاہئے بلکہ جو کوئی اس قبیح حرکت کا موجب بنا ہو اس کو پھانسی سے کم کوئی بھی سزا نہیں دی جانی چاہئے ۔ جموں بار ایسوسی ایشن کی طرف سے کل جو ہڑتال کی کال دی گئی تھی اس کو بلاجواز قرار دیتے ہوئے جموں کے تاجروںاور صنعت کاروں کی سب سے بڑی انجمن جموں چیمبر آف کامرس نے اس کو بلاجواز قرار دیا اور کہا کہ جو معاملات عدالت میں زیر سماعت ہیں ان پر کسی بھی طرح کی احتجاجی کال نہ صرف بلاجواز ہے بلکہ اس پر ہڑتال کرنا کسی بھی طور جائیز نہیں۔ کل جموں میں نہ صرف دکانیں کھلی رہیں بلکہ ٹرانسپورٹ بھی معمول کے مطابق چلتا رہا ۔ سکول کالج سب کھلے رہے اور روز مرہ کی زندگی پر کوئی اثر نہیں پڑا ۔ اس سے ہڑتال کی کال دینے والوں کو مایوسی کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ انہوں نے جن مطالبات کو لے کر احتجاجی کال دی تھی جموں واسیوں نے ان کو بلاجواز قرار دیا اور کہا کہ یہ معاملات عدلیہ میں زیر سماعت ہیں اس کے علاوہ جموں کے لوگوں نے کہا کہ جو وکلا ایک معصوم اور لاچار بچی کی آبرو ریزی اور قتل میں ملوث افراد کو بچانا چاہتے ہیں وہ کس قبیل کے ہونگے اور ان کی ذہنی پستی کا کیا حال ہوگا ۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ جموں کے چند وکیلوں نے اس سے قبل آصفہ کے قتل کے الزام میں گرفتار افراد کیخلاف کرایم برانچ کی طرف سے عدالت میں چالان پیش کرنے میں رکاوٹیں ڈالیں اور ہنگامہ کیاجس پر پولیس نے ان کیخلاف مقدمہ درج کرلیا ہے۔ اس سے اس بات کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ان وکیلوں کا ضمیر کس قدر مردہ ہوچکا ہے کہ وہ ایک معصوم بچی کے قاتلوں کو بچانے کی کوششوں میں مصروف ہیں ۔ اسی طرح بار نے پناہ گزینوں کے بارے میں کس قدر دوہرا معیار اپنانا ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ مغربی پاکستان سے آئے ہوئے شرنارتھیوں کو یہ لوگ سٹیٹ سبجیکٹ تک دینے کیلئے ریاستی حکومت پر دبائو ڈال رہے ہیں لیکن دوسری جانب روہنگیائی مسلمان پناہ گزین جن کی تعداد صرف کئی ہزار ہے کو جموں بدر کرنے کیلئے احتجاج کررہے ہیں جبکہ وہ انتہائی کسمپرسی کی زندگی بسر کررہے ہیں ۔ غرض جموں کے بعض عناصر جو ریاست کو فرقوں اور مذہب کے نام پر تقسیم کرنا چاہتے ہیں ایڑی چوٹی کا زور لگارہے ہیں ۔ ادھر بی جے پی نے پہلی مرتبہ جموں کے مسلمانوں کو ساتھ لے کر چلنے کی بات کہی ہے اور بتایا کہ جب تک جموں کے ہر معاملے میں مقامی مسلمانوں کو اعتماد میں نہیں لیاجائے گا تب تک جموں کوئی بھی مسئلہ کامیا ب نہیں ہوگا ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں