الزائمر کا بالآخر علاج ڈھونڈ لیا گیا

واشنگٹن 11 اپریل ﴿یو این آئی﴾ اب تک لا علاج سمجھی والی بیماری الزائمر کا بالآخر علاج ڈھونڈ لیا گیا۔ اس کامیابی کا دعویٰ ایک طبی تحقیقی میں کیا گیا ہے ۔سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ وہ بالآخرا س مرض کا باعث بننے والے اہم ترین جین کو بے اثر کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔امریکہ میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں گلیڈاسٹون انسٹیٹوٹ کی تحقیقی ٹیم نے apoE4نامی جین سے جڑے اس پروٹین کی شناخت میں کامیابی حاصل کرلی جو الزائمر کا باعث بنتا ہے ۔سائنس دانوں کا خیال ہے کہ ہر چار میں سے ایک شخص میں یہ جین موجود ہوتا ہے جو الزائمر کا خطرہ دوگنا سے زیادہ بڑھا دیتا ہے ۔اس کامیابی کے حوالے سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس طرح سائنسدانوں نے نہ صرف انسانی عصبی خلیات کو پہنچنے والے نقصان کی روک تھام کو ممکن بنانے میں کامیابی حاصل کر لی ہے بلکہ اس کامیابی کا رخ اب ایک ایسی موثر دوا تیار کرنے کی طرف موڑا جائے گاجس سے اس لاعلاج بیماری کی روک تھام بھی ہو سکے ۔یہ تجربہ اس لحاظ سے بھی بہت زیادہ اہم ہے کہ یہ تجربہ انسانی خلیات پر کیا جارہا ہے ۔الزائمر سے نجات کی دوا کی تیاری میں گزشتہ 10 برسوں میں کوئی بڑی کامیابی نہیں ملی تھی۔بعض ادویاتی کوششوں نے جانوروں پر تو کسی حد تک کام کیا لیکن انسانوں پر کوئی آزمائش اب تک کاممیاب نہیں ہوئی۔اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے نیچر میڈیسین میں شائع ہوئے ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں