وقف بورڈ شاہجہاں کے دستخط شدہ دستاویز عدالت میں پیش کریں:سپریم کورٹ

نئی دہلی،11 اپریل ﴿یو این آئی﴾ سپریم کورٹ نے محبت کی لازوال علامت تاج محل پر مالکانہ حق کا دعوی کرنے والے سنی وقف بورڈ کو ایک ہفتہ میں مغل حکمراں شاہجہاں کے دستخط شدہ دستاویز عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا ہے ۔عدالت عظمی نے محکمہ آثار قدیمہ ﴿ اے ایس آئی﴾ کی عذرداری پر منگل کو سماعت کے دوران کہا کہ مغلیہ عہد کے خاتمہ کے ساتھ ہی تاج محل اور دیگر تاریخی عمارتیں انگریزوں کو منتقل ہوگئی تھیں۔آزادی کے بعد سے یہ مقبرہ حکومت کے پاس ہے اور محکمہ آثار قدیمہ اس کی دیکھ بھال کر رہا ہے ۔ لیکن بورڈ کی طرف سے یہ دلیل پیش کی گئی کہ بورڈ کے حق میں شاہجہاں نے ہی تاج محل کا وقف نامہ تیار کرایا تھا۔ اس پر بنچ نے فوراً کہا کہ آپ ہمیں شاہجہاں کے دستخط شدہ دستاویز دکھادیں۔وقف بورڈ کی درخواست پر عدالت نے اسے ایک ہفتے کی مہلت دی ہے ۔تاج محل کے مالکانہ حق کے سوال پر سماعت کے دوران چیف جسٹس دیپک مشرا کی سربراہی میں قائم بنچ نے کہا کہ یہ کون یقین کرے گا کہ تاج محل وقف بورڈ کی جائیداد ہے ۔ اس طرح کے معاملوں میں عدالت کا قیمتی وقت ضائع نہیں کرنا چاہیے ۔ عدالت عظمی نے یہ رائے زنی محکمہ آثار قدیمہ کی عرضداشت پر سماعت کے دوران کی جس میں اس نے 2005 کے اترپردیش سنی وقف بورڈ کے فیصلے کے خلاف اپیل کی تھی ۔ بورڈ نے تاج محل کو وقف بورڈ کی ملکیت قرار دیاتھا۔ دراصل سنی وقف بورڈ نے حکم جاری کرکے تاج محل کو اپنی جائیداد کے طور پر اندراج کرنے کو کہا تھا۔ محکمہ آثار قدیمہ نے اس کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل کی تھی جس نے بورڈ کے فیصلے پر حکم امتناعی جاری کردیاتھا۔ واضح رہے کہ محمد عرفان بیدار نے الہ آباد ہائی کورٹ میں ایک عرضداشت داخل کرکے تاج محل کو اترپردیش سنی وقف بورڈ کی جائیداد قرار دیئے جانے کا مطالبہ کیاتھا لیکن ہائی کورٹ نے انہیں وقف بورڈ سے رجوع کرنے کی ہدایت کی تھی۔ محمد عرفان بیدار1998 میں وقف بورڈ میں عرضداشت داخل کرکے تاج محل کو بورڈ کی جائیداد قرار دیئے جانے کا مطالبہ کیاتھا۔بورڈ نے محکمہ آثار قدیمہ ﴿اے ایس آئی﴾ کو نوٹس جاری کرکے جواب دینے کو کہا تھا ۔ اے ایس آئی نے اپنے جواب میں اس کی مخالفت کرتے ہوئے کہا تھا کہ تاج محل اس کی ملکیت ہے لیکن بورڈ نے اے ایس آئی کی دلیلوں کو مسترد کرتے ہوئے تاج محل کو بورڈ کی جائیداد قرار دیاتھا۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں