بی جے پی کی پوزیشن  مضحکہ خیزبن گئی

آصفہ قتل اور آبرو ریزی کیس نے اس وقت نیاموڑ لیا جب سپریم کورٹ نے اس معاملے میں جموں بار ایسوسی ایشن سے وابستہ وکلا ئ کے رول کا سخت نوٹس لیا اور ان کے نا م وجہ بتائو نوٹس جاری کیا۔ ان وکلا نے کرایم برانچ کی طرف سے عدالت میں چارج شیٹ پیش کرنے کے وقت بھی رکاوٹیں ڈالی تھیں اور ہنگامہ آرائی کرنے کے علاوہ کرایم برانچ کے افسروں اور دیگر ملازمین پر قاتلانہ حملہ کرنے کی بھی کوشش کی تھی کیونکہ عین شاہدین کے مطابق یہ وکیل تیز دھار والے ہتھیاروں سے لیس تھے لیکن پولیس کی بروقت کاروائی کے نتیجے میں وہ اپنے مکروہ عزایم میں کامیاب نہیں ہوسکے اور ان کیخلاف کیس رجسٹر کیا گیا۔ اس کے بعد جموں بار ایسوسی ایشن نے ایک معصوم بچی کے اغوا ، آبرو ریزی اور قتل میں ملوث درندوں کو بچانے کیلئے جموں بند کی کال دی تھی جو پوری طرح ناکام ہوگئی کیونکہ بار کا مکھیہ جوبقول غلام نبی آزاد بی جے پی کا تنخواہ دار ایجنٹ ہے کی کال کو جموں واسیوں نے بلاجواز قرار دیا اور کہا کہ کچھ لوگ اسے فرقہ وارانہ نوعیت کا قرار دینے کی مذموم کوششیں کررہے ہیں اسلئے بند کی کال کا کوئی جواز نہیں۔ اس کے بعد آصفہ قتل اور آبرو ریزی کا معاملہ جب دنیا بھر کے اخبارات کی زینت بن گیا تو بھار ت بھر میں تہلکہ مچ گیا اور ہر مکتب فکر چاہے وہ اداکار ہوں یا سیاستداں ، تاجر ہو یا ملازم ، مزدرو ہو یا کاریگر ہر ایک نے اس واقعے کی دل کھول کر مذمت کی اور اس میں ملوث افراد کو پھانسی پر لٹکانے کا مطالبہ کیا۔ چنانچہ جب اس معاملے پر بی جے پی کی پوزیشن مضحکہ خیز بن گئی تو اس کے بعد ہی وزیر اعظم نے اس معاملے پر بیان دیا اس دوران وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ کے ملاقات کی اور معلوم ہوا ہے کہ وزیر اعلیٰ نے بھی یہ معاملہ راج ناتھ سنگھ کے ساتھ اٹھایا۔ جب بی جے پی کو یہ محسوس ہوا کہ پورے بھارت میں معصوم آصفہ کے معاملے پر اس پارٹی پر انگلیاں اٹھنے لگیں تو فوری طور پر وزیر اعظم اوروزیر داخلہ سے لے کروزیر مملکت برائے امور خارجہ تک نے بیانات دئے اور اس سنگین جرم میں ملوث افراد کو کڑی سے کڑی سزا دینے کی بات کہی۔ تعجب کا مقام ہے کہ کل تک ہر چھوٹا بڑا بی جے پی کا لیڈر یا وزیر آصفہ کے قتل میں ملوث افراد کو بچانے کی کوشش کرتا رہا لیکن آج اچانک ان کا لہجہ بدل گیا اورجنوری میں رونما ہوئے اس سنگین جرم پر کل پہلی بار نرمل سنگھ جو نایب وزیر اعلیٰ ہیں نے بیان دیا ۔ اور اس کے ساتھ ہی مرکز کی ہدایت پر دو وزیروں گنگا اور لعل سنگھ کو وزارتی کونسل سے نکال باہر کیا گیا ۔ ان دونوں نے ہندو ایکتا منچ کی اس ریلی میں شمولیت کی تھی جو قاتلوں اور زانیوں کو رہا کرنے کے حق میں منعقد کی گئی تھی لعل سنگھ اور گنگا کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ انہوں نے اس دوران پولیس پر برابر دبائو بنائے رکھا تاکہ گرفتار کئے گئے افراد کو رہا کیاجائے ۔ اب اگر بی جے پی کو اپنی گرتی ہوئی ساکھ کو بچانا ہے تو ان دونوں سابق وزیر وں کو گرفتار کرکے ان کیخلاف بھی قتل کا مقدمہ درج کیاجانا چاہئے کیونکہ یہ ددنوں بھی قاتلوں کو بچانے کیلئے تگ و دو کرنے کے علاوہ اپنی آفیشل پوزیشن کا ناجائیز فایدہ اٹھاتے رہے اسلئے یہ دونوں بھی اسی طرح اس بھیانک جرم میں شریک ہیں جس طرح دوسرے سات افراد اس بھیانک جر م کے مرتکب ہوئے ہیں اور اس وقت جیل کی کال کوٹھری میں بند ہیں۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ ان سب کو سرعام پھانسی پر لٹکایا جاناچاہئے۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں