شہریوں کے جان وما ل کو تحفظ فراہم کیا جائے

ایک مقامی خبر رساں ایجنسی نے مرکزی وزارت داخلہ کے حوالے سے بتایا کہ وادی میں جنگجو مخالف اوپریشنوں کے دوران عام شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کیلئے اقدامات کئے جا رہے ہیں پر زور دیتے ہوئے وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ ریاست کی مجموعی سیکورٹی صورتحال پر گہرائی سے نظر رکھی جارہی ہے ۔ وزارت داخلہ کے ایک اعلیٰ افسر کے حوالے سے اس خبر رساں ایجنسی کے این ایس نے بتایا کہ وزارت داخلہ نے ریاست میں تعینات سیکورٹی ایجنسیوں بشمول فوج ، سی آر پی، بی ایس ایف وغیرہ کو ہدایت دی ہے کہ وہ ریاست اورخاص طور پر وادی میں جنگجو مخالف اوپریشنوں کے دوران عام شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنائیں اور ان کے مال و جان کی حفاظت میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہ کریں۔ ان ہدایات کے تناظر میں جب ہم پیچھے کی طرف دیکھتے ہیں تو یہ بات عیاں ہوجاتی ہے کہ اکثر اوقات پر جب فورسز کی طرف سے جنگجو مخالف اوپریشن شروع کیا جاتا ہے تو اس دوران عام شہریوں کے جان و مال کا کوئی خیال نہیں رکھا گیا کیونکہ اب تک جنگجو مخالف اوپریشنوں کے دوران بہت سے ایسے واقعات رونما ہوئے جب عام شہری جان سے بھی گئے اور ان کا بھاری مالی نقصان بھی ہوا اس کی مثال شوپیاں، پلوامہ، بیج بہاڑہ کے علاوہ بالہامہ میں جنگجو مخالف اوپریشنوں کے دوران عام شہریوں کو پیش آئے نقصان سے دی جاسکتی ہے۔ بالہامہ میں ایک معروف شاعر اور قلمکار کا جہاں پورا مکان تباہ کردیا گیا وہیں پر اس کی پوری ذاتی لائیبریری جس میں ہزاروں کتابیں تھیں تباہ کردی گئی۔ ان اوپریشنوں کے دوران دو درجن سے زیادہ عام شہری بھی از جان ہوئے ہیں۔ حکومت کی طرف سے بار بار کہا جارہا ہے کہ فورسز کو اس بات کی ہدایت دی گئی ہے کہ عام شہریوں کے جان و مال کو تحفظ فراہم کریں لیکن اس پر عملدرآمد نہ دارد ۔ یہاں سے سیاحتی سیزن سر پر کھڑا ہے اور اگر یہ سیزن بھی اسی طرح گذرگیا تو وادی میں لوگوں کی مالی حالت اور زیادہ پتلی ہوجائے گی۔ اس سے قبل ان ہی کالموں میں بار بار اس بات کا تذکرہ کیاجاتا رہا ہے کہ جب تک عام شہریوں کے جان و مال کو بھر پور تحفظ فراہم نہیں کیاجائے گا تب تک حالا ت کی بہتری کے امکانات دور دور تک نظر نہیں آینگے ۔ کیونکہ عام شہریوں کی ہلاکتوں سے ہی حالات بگڑ جاتے ہیں اسلئے ریاستی حکومت کو اس کی طرف دھیان دینا چاہئے کہ واضح احکامات کے باوجود کیونکر جنگجو مخالف اوپریشنز کے دوران عام لوگوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ عوام میں فورسز کیخلاف جو غم و غصہ پایا جاتا ہے اس کی بنیادی وجہ یہی ہے اور اوپر سے مرکزی وزارت داخلہ کا یہ کہنا کہ مرکز کشمیر میں سیاحتی سیزن کو کامیاب دیکھنا چاہتی ہے یہ اسی وقت ممکن ہوگا جب فورسز عام شہریوں کیخلاف بلاجواز کاروائیوں کو روک لے اور صرف اتنی ہی طاقت استعمال کریں جتنی ان کو ضرورت ہوتی ہے۔ مانا کہ افسپا کے تحت فورسز کو بے پناہ اختیارات حاصل ہیں لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ عام لوگوں کے جان و مال کا کوئی پاس لحاظ نہ رکھ کر من مانی کی جائے۔ اسلئے اگر مرکزی اور ریاستی حکومتیں اس ریاست اور خاص طور پر وادی میں امن چاہتی ہیں اور سیاحتی سیزن کو کامیابی سے ہمکنار ہوتا ہوا دیکھنا چاہتی ہیں تو جنگجو مخالف اوپریشنز کے دوران عام شہریوں کو نشانہ بنانے کا عمل ترک کیاجانا چاہئے ۔ اورلوگوں کے جان وما ل کوتحفظ فراہم کیا جائے۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں