فضائی حملوں سے شام کے کیمیائی پروگرام مفلوج

آرگنائزیشن تھا اور ایسے ہی حملے حمص میں واقع میں دو تحقیقی اداروں پر کئے گئے ۔ ان ممالک کا کہنا ہے کہ اس حملے کا مقصد شام کے کیمیائی پروگرام کی صلاحیت کو مفلوج کرنا تھا اور ان کا ارادہ اسد حکومت کاگرانا یا اس خانہ جنگی میں مداخلت کرنا نہیں ہے ۔ ان حملوں کوشام نے غیر قانونی کارروائی قرار دیا ہے ۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے فضائی حملوں کے بعد ایک ٹویٹ کرکے کہا ''مشن پورا ہوا''۔ امریکی وزارت دفاع پنٹاگن میں لیفٹیننٹ جنرل کینتھ میکنزی نے بتایا کہ ہمارا خیال ہے کہ بارزہ میں حملہ کرکے ہم نے شامی کیمیائی ہتھیاروں کے پروگرام کو مکمل طور پرتباہ کر دیا ہے ۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس پروگرام کے کچھ حصے ابھی باقی ہیں اور وہ اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتے ہیں کہ شام مستقبل میں ایسی کسی سرگرمی کو انجام نہیں دے گا۔ اقوام متحدہ میں امریکی سفیر نکی ہیلی نے ایک ہنگامی اجلاس میں کہا تھا کہ اگر شام پھر زہریلی گیس کا استعمال کرتا ہے تو امریکہ پوری طرح تیار ہے ۔ ان حملوں کے بارے میں شام کے دوست ممالک کے ایک افسر نے بتایا کہ حملوں سے کچھ دن پہلے روس کے مشورہ پر شہریوں کو وہاں سے چلے جانے کی ہدایات دے دی گئی تھی۔ روسی وزیر خارجہ سرگئی لاؤروف نے کہا ہے کہ یہ حملے ناقابل قبول ہیں اور مکمل طور غیر قانونی ہیں۔ شامی میڈیا نے انہیں بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیا ہے اور ایران کے رہنما آیت اللہ علی خامنہ ای نے انہیں جرم قرار دیتے ہوئے مغربی ممالک کے رہنماؤں کو مجرم قرار دیا ہے ۔ روس نے کہا ہے کہ اس کے ساتھی کے خلاف کی گئی اس کارروائی کا صحیح وقت پر جواب دیا جائے گا۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں