جموں بند کے دوران کانگریس اور پنتھرس پارٹی کا رول حریت ’ع‘ حددرجہ شرمناک اور اخلاقی دیوالیہ پن قرار دیا

سرینگر/حریت کانفرنس’ع‘ نے آٹھ سالہ کمسن آصفہ بانو عصمت دردی اور قتل میں ملوث افراد کے حق میں بار ایسوسی ایشن جموں کے بعض وکلا کی جانب سے گذشتہ کل جموں بند کوجبراً کامیاب کرانے کی مذموم کوششوں اور اس ضمن میں پردیش کارنگریس پارٹی اور پینتھرس پارٹی کے کردار کوحد درجہ سرمناک اور اخلاقی دیوالہ پن قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ریاستی انتظامیہ اور پولیس خاموش تماشاہی کا کردارا دا کرتی رہی جبکہ کہ اس کیے برعکس کشمیر میں ریاستی دہشت گردی کے نتیجے میں جاری قتل و غارت ، ماردھاڑ اور بنیادی حقوق انسانی کی پامالیوں کے خلاف کشمیری قیادت اور عوام کونہ صرف پُر امن احتجاج کی بھی اجازت نہیں دی جارہی ہے بلکہ مظاہرین پر بے تحاشہ اور اندھا دھند بلٹ اور پیلٹ کی بارش کرکے نہتے شہریوں کو بے دردی سے قتل کیا جاتا ہے جوبی جے پی ،پی ڈی پی کے اتحادی حکمرانوں کے دہرے معیار کا عکاس آمرانہ طرز عمل سے عبارت سیاست کاری ہے۔حریت کانفرنس نے حالیہ شوپیاں خونین سانحہ کے ایک عشرہ کے دوران ایک بار پھر کھڈونی کولگام میں فورسز کی راست فائرنگ سے دو معصوم کمسن بچوں سمیت چار نہتے شہریوں کو بے دردی سے شہید کردینے ،۵۷/ افراد کو شدید زخمی کردینے ، ایک درجن سے زیادہ رہائشی مکانات اور دکانات کو نذر آتش کردینے کے قیامت خیز واقعات کو ظلم و بربریت اور بدترین انتقام گیری کی انتہا قرار دیتے ہوئے اس کی شدید مذمت کی ۔
بیان میں کہا گیا کہ کشمیر فورسز کے ہاتھوں قتل و غارت گری کے پے درپے المناک واقعات اور منظم منصوبے اور پورے تسلسل کے ساتھ جاری ہیں اور ان جارحانہ اور قاتلانہ کارروائیوں کا مقصد عوام کو اپنی منصفانہ جد وجہد سے باز رکھنا ہے۔ اس دوران مشرقہ مزاحمتی قیادت کے دیے گئے پروگرام کی پیروی میں کولگام قتل عام کیخلاف سرینگر میں کرفیو اور بندشوں کے باوجود مختلف مقامات پر لوگوں نے شدید احتجاج کیا ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں