معصوم بچوں کو منصوبہ بند طریقے پر قتل کرنے کا عمل ہم کسی بھی صورت میںبرداشت نہیںکریںگے:گیلانی

سرینگر/چیرمین حریت ’گ‘ سید علی گیلانی نے کھڈونی کولگام میں میں بھارتی فورسز کے ہاتھوں معصوم شہریوں شرجیل احمد شیخ، بلال احمد تانترے، اعجاز احمد پالہ اور فیصل اِلٰہی کی ہلاکت پر اپنے گہرے صدمے اور رنج وغم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ریاست جموں کشمیر کی تاریخ بھارتی افواج کے ہاتھوں بدترین قسم کی سرکاری دہشت گردی کے سانحات سے بھری پڑی ہے۔ انہوں نے اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل، اسلامی ممالک کی تنظیم او آئی سی اور انسانی حقوق سے وابستہ عالمی اداروں سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ حقِ خودارادیت جیسے جائز جمہوری اور سیاسی مطالبے کی پاداش میں ایک چھوٹی سی قوم کی اجتماعی نسل کُشی میں ملوث بھارتی ارباب اقتدار اور افواج کی جابرانہ کارروائیوں پر روک لگانے کے لیے مؤثر اقدامات اٹھائیں۔ بیان میں گیلانی صاحب نے کہا کہ بھارت نے جموں کشمیر کو ایک قتل گاہ میں تبدیل کردیا ہے اور وہ ہمارے معصوم بچوں کو ایک منصوبہ بند طریقے پر قتل کررہا ہے، جس کو ہم کسی بھی صورت میں برداشت نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ابھی شوپیان سانحہ کا زخم ہمارے سینے پر تازہ ہی تھا کہ بھارتی فوج کے کولگام میں خونی کھیل کھیل کر ہمارے کلیجوں کو چھلنی کردیا ہے، جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ گیلانی صاحب نے بھارت کے ارباب اور ان کے مقامی معاونین کو مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ آپ نہتے شہریوں کو گولیاں اور پیلٹ کا نشانہ بنانے کے سلسلے کو فوری طور بند کریں ، یہ ایک غیر مہذب طریقہ ہے جس کو کسی بھی حال میں برداشت نہیں کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اول تو پُرامن احتجاج کو روکنے کی کوئی معقول وجہ نہیں اور دوم اگر ایسا کرنا حکومت کی نظروں میں ضروری بھی ہو تب بھی اس کو منتشر کرنے کے لیے کئی محفوظ اور بے ضرر طریقے ہوتے ہیں، جن سے قیمتی انسانی زندگیوں کو ضائع ہونے سے بچایا جاسکتا ہے، لیکن اس بدقسمت خطہ ارض میں ہر وردی والا ہمارے پرامن مظاہرین کو زیر کرنے کے لیے بندوق کے بغیر کسی اور چیز کا استعمال ہی نہیں کرتا، بلکہ ان کو کشمیریوں کے لہو کی اتنی لت لگ چکی ہے کہ ان کو اس کے بغیر کسی اور طریقے سے ہماری پرامن جدوجہد کو قابو کرنے کا منتر آتا ہی نہیں ہے۔ گیلانی صاحب نے پولیس سربراہ کے اس بیان کہ SOPپر نظرثانی کرنے کی ضرورت ہے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کی افواج نے کب SOP'sپر عملدرآمد کیا ہے۔
ان کو کشمیریوں کا خون بہانے کا نشۂ چڑھ چکا ہے اور یہ کشمیریوں کے خون سے لطف اندوز ہوتے ہیں اور اس کو اپنے دیش کی سیوا سمجھتے ہیں۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں