حکمران کشمیریوں کو پشت بہ دیوار لگاکر عوامی تحریک برپا کرنے پر مجبور کررہے ہیں:یٰسین ملک

 سرینگر/زندہ قومیں اپنے شہدائ کو فراموش نہیں کرتی ہیں نا ہی اپنے شہدائ کے لہو کا سوداکرتی ہیں ۔شوپیان کے بعد کھڈونی کولگام میں کشمیریوں جوانوں پر بھارتی یلغار اور نسل کشی کشمیریوں کی آواز کو دبانہیں سکتے، حکمران کشمیریوں کو پشت بہ دیوار لگا کر بھر پور عوامی تحریک چھیڑنے پر مجبور کر رہے ہیں ۔ان باتوں کا اظہار لبریشن فرنٹ کے محبوس چیئرمین محمد یاسین ملک نے میڈیا کے لئے جاری کئے گئے اپنے بیان میں کیا ہے۔ یاسین صاحب جو فرنٹ کے کئی دوسرے قائدین نور محمد کلوال ،مشتاق اجمل، ظہوراحمد بٹ کے ہمراہ سر ینگر سینٹرل جیل میں مقید ہیں نے گزشتہ روز کھڈونی میں بھارتی افواج کے ذریعے چار معصومین شہید سرجیل احمد شیخ ،شہید سہیل احمد ڈار ،شہید بلال احمد تانترے ،شہید فیصل الٰہی اور درجنوں افراد کو پلٹ نیزآتش وآہن سے زخمی کرنے اور کئی مکانات و دوکانات کو گن پوڈر اور بارود لگا کر تباہ کرنے کے واقعات کو سرکاری سرپرستی میں جاری دہشت گردی سے تعبیر کرتے ہوئے کہا ہے کہ کل جو کچھ کھڈونی میں دہرایا گیا وہ بد ترین ہٹلر یت کو بھی شرمسار کرنے کے لئے کافی ہے۔ یاسین ملک نے کہا کہ ایک طرف سے بھارتیفورسز کا قتل و غارت کا سلسلہ جاری ہے اور دوسری جانب آر ایس ایس اور بی جے پی جیسی فسطائی قوتوں کے کشمیر و مسلم مخالف بیانات اس پر مستزاد پی ڈپی کی قیادت والی بے شرم سرکار جو قتل و غارت کرواکر مگر مچھ آنسو بہاتی ہے اور پھر ہمارے معصومین کو ہی مورد لزام ٹھہر ا کر اُنہیں بھارتی طاقت سے ڈرنے کا سبق دیتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کرسی کے لئے اپنا سب کچھ بیج کھانے والے ان لوگوں کو یاد رکھنا چاہے کہ اگر ظلم و جبر سے ڈرکر مزاحمت و مقا ومت ترک کرنا ہی شیوہ انسا نیت ہوتا تو نہ پیغمبر ابراہیم علیہ السلام کو نمرود کی آگ میں ڈالا جاتا اور ناہی محمد عربیö کے دندان مبارک شہید کئے جاتے اور نہ ہی امام حسین (رض)کو کربلا میں سر کٹانے کی ضرورت پیش آتی۔قتل و غارت اور نسل کشی کے اس جاری بھارتی سلسلے کو حق و باطل کے درمیان ستیزہ کاری سے تعبیر کرتے ہوئے یاسین ملک نے کہا کہ تاریخ اقوام کا ہی سبق ہے کہ باطل کتناہی طاقتور کیوں نہ ہو لیکن آخری فتح بالاخر مظلوموں اور مقہوروں کی ہی ہواکرتی ہے۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں