ایڈونچر ٹورازم سے زیادہ پلگرم ٹورازم کی اہمیت

 وزیر سیاحت جب ایڈ ونچر ٹوارزم کی بات کرتے ہیں تو اس سے ہر کشمیری کے چہرے میں خوشی کے آثار پیدا ہوتے ہیں کیونکہ جتنی زیادہ تعداد میں سیاحوں کیلئے دلچسپی کے سامان پیدا کئے جاینگے اتنی ہی تعداد میں زیادہ سے زیادہ سیاح وادی کی سیاحت پر آسکتے ہیں۔ روایتی سیاحتی مقامات کی اپنی جگہ ایک خاص اہمیت اور خصوصیت ہے جس سے انکار نہیں کیاجاسکتا ہے لیکن اگر کوئی سیاح دوسری یا تیسری مرتبہ سیاحت کیلئے آئے گا تو اسے روایتی سیاحتی مقامات کے علاوہ دوسری ایسی جگہیں دیکھنے کو بھی ملنی چاہئیں جس سے اس کی اس ریاست میں دلچسپی اور زیادہ بڑھ جائیگی اور واپس جاکر وہ نہ صرف دوبارہ یہاں آنے کیلئے بے تاب ہوگا بلکہ دوسروں کو بھی ریاست اور خاص طور پر وادی کی سیاحت پر راغب کرنے کی کوشش کرسکتا ہے لیکن یہ سب تب ہی ممکن ہے جب نئے نئے سیاحتی مقامات کی کھوج کی جائے اور ان کو سیاحتی مقامات کا درجہ دے کر ان میں بنیادی ڈھانچے کو مستحکم کرنے کی کوشش کی جائے تب کہیں جاکر زیادہ سے زیادہ سیاحوں کو وادی کی سیر پر راغب کیاجاسکتا ہے۔ حال ہی میں وزیر سیاحت نے شمالی کشمیر کے اوڑی میں ایک جگہ کی نشاندہی کرکے اسے ایڈونچر ٹوارزم کیلئے بڑھاوا دینے کی بات کہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جتنے نئے نئے مقامات کو تلاش کرکے ان کو ایڈونچر ٹوارزم کیلئے مخصوص کیاجائے گا اسی قدر وادی میں سیاحت کو فروغ مل سکتا ہے جس سے اس ریاست کو مالی طور پر استحکام حاصل ہوسکتا ہے۔ اس سے قبل ریاستی حکومت نے پلگرم ٹوارزم کو بڑھاوادینے کا اعلان کیا تھا اس کیلئے اس ریاست میں کافی کچھ ایسے مقامات ہیں جن کو پلگرم ٹوارزم کے طور پر فروغ دیاجاسکتا ہے لیکن اس بارے میں کوئی ایسا قدم نہیں اٹھایا گیا جس سے ایسا ممکن ہوتا کہ زیادہ سے زیادہ سیاح مذہبی مقامات کی جانب کھینچ کر آتے۔ جہاں ایڈونچر ٹوارزم مہم جو سیاحوں کیلئے ہے اسی طرح جو لوگ مذہبی مقامات میں دلچسپی رکھتے ہیں ان کیلئے پلگرم ٹوارزم کو بڑھاوا دینے سے ان کی مذہبی خواہشات اور احساسات کو ابھارنے میں مدد مل سکتی ہے اور جب وہ یہاں آینگے تو اس سے سیاحت سے وابستہ افراد کی روزی روٹی کا بھی بندو بست ہوگا۔ حالات کی وجہ سے روایتی سیاحت بری طرح متاثر تو ہوئی ہے لیکن جو لوگ پلگرم ٹوارزم کے شوقین ہوتے ہیں ان کیلئے حالات وغیرہ کوئی اہمیت نہیں رکھتے ہیں وہ ہر حال میں مقدس مقامات کی زیارت کے متمنی ہوتے ہیں۔ اسلئے ریاستی وزیر سیاحت کو چاہئے کہ جب وہ ایڈونچر ٹوارزم کی بات کرتے ہیں تو انہیں پلگرم ٹوارزم کیلئے بھی ترجیحی بنیادوں پر اقدامات کرنے چاہئیں تب کہیں جاکر اس ریاست کی مالی حالت میں قدرے سدھار آسکتا ہے بصورت دیگر یہاں کے اقتصادی حالات دن بدن بد سے بدتر ہوتے جارہے ہیں ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں