یکطرفہ جنگ بندی ضروری ہے

 گذشتہ دنوں وزیر اعلیٰ کی طرف سے بلائی گئی کل جماعتی اجلاس میں تقریباًتقریباًسب کے سب اپوزیشن رہنمائوں نے شرکت کی اور حالات و واقعات کے حوالے سے اپنی آرا پیش کیں۔ اس کل جماعتی اجلاس میں کسی بھی اپوزیشن رہنمائ نے ایسی کوئی بات نہیں کی جسے کسی بھی صورت میںاشتعال انگیز کہاجاتا اور نہ ہی اپنا وقت بیجا الزامات اور جوابی الزامات میں ضایع کیابلکہ ہر ایک اپوزیشن ممبر نے موجودہ قتل و غارت کے واقعات پر افسوس اور شہر ی ہلاکتوں پردکھ کا اظہار کرتے ہوئے قیام امن کیلئے کی جانے والی کوششوں میں وزیر اعلیٰ کو تعاون دینے کا اعلان کیا۔ اس اجلاس میں شرکائ نے بغیر پارٹی وابستگیوں کے وادی میں امن کے قیام کیلئے کوششیں شروع کرنے پر زور دیا اور کہا کہ جب امن قایم ہوگا تو اس کے ساتھ ہی مسلئے کے حل کیلئے راہیں بھی ہموار کی جاسکتی ہیں۔ چنانچہ اس اجلاس میں کئی تجاویز پیش کی گئیں۔ ایک ایسی ہی تجویز میں کہا گیا کہ ماہ رمضان اور امر ناتھ یاترا کے پیش نظر حکومت کو یکطرفہ طور پر جنگ بندی کا اعلان کرنا چاہئے تاکہ یہ جو روز خون خرابہ ہورہا ہے اس پر قابو پانے میں مدد مل سکے۔ یہ تجویز بھی پیش کی گئی نظربندوں کو غیر مشروط طور پر رہا کیاجاناچاہئے تاکہ اس حوالے سے لوگوں میں جو غم وغصہ پایا جاتا ہے وہ بھی کم ہوسکے ۔ ایک اور تجویز میں کہا گیا کہ اپوزیشن کا ایک وفدمستقبل قریب میں نئی دہلی جاکر وزیر اعظم کے ساتھ ملاقات کے دوران ان پر وادی کی موجودہ صورتحال واضح کرکے ان کو معطل شدہ مذاکراتی عمل پھر سے بحال کرنے پر زور دے گا ۔ یہ ایسی تجویزیں تھیں جن پر وزیر اعلیٰ نے بھی اطمینان کا اظہار کیا اور اجلاس کے اختتام پر خود ہی ان تجاویز کے بارے میں میڈیا کو جانکاری دی۔ ابھی اس سلسلے میں ابتدائی کاروائی بھی شروع نہیں کی گئی تھی کہ پی ڈی پی کی حلیف پارٹی بھاجپا کے کسی رکن نے جموں میں پریس کانفرنس میں بتایا کہ فائیر بندی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ہے ۔ اس نے بتایا کہ جنگجوئوں اور پتھربازوں کیخلاف جنگ بقول اس کے آخری مرحلے میں داخل ہوگئی ہے۔ وغیرہ وغیرہ ۔بی جے پی کے اس شخص کو یہ شاید معلوم ہی نہیں ہے کہ یہاں کتنی شہری ہلاکتیں ہورہی ہیں ۔ جنگجو نوجوانوں کیخلاف کاروائی کی آڑ میں کتنے معصوم نوجوان اپنی اٹھتی جوانیوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ اس پر اور تو اور خود وزیر اعلیٰ نے بھی ہر بار افسوس اور دکھ کا اظہار کیا جب شہری ہلاکتیں ہوتی ہیں۔ جنگجو نوجوانوں کیخلاف اوپریشن کے دوران کیا کچھ کیاجاتا ہے اس سے سب لوگ باخبر ہیں اسلئے اسطرح کے بیانات سے احتراز کرنا چاہئے کیونکہ اس سے حالات کے اور زیادہ بگڑنے کے امکانات پیدا ہوتے ہیں۔ کل جماعتی اجلاس میں جو تجاویز پیش کی گئیں وہ اس لحاظ سے حوصلہ افزا قرار دی جاسکتی ہیں کہ ان کو عملانے سے امن قایم ہوتا ہے ۔ اسلئے وزیر اعلیٰ کو بھاجپا اراکین کے اسطرح کے بیانات پر پابندی عائد کر دینی چاہئے۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں