دہلی میں کشمیریوں پر قاتلانہ حملہ

نئی دہلی کی سن لائیٹ کالونی میں کشمیری کنبے کی مارپیٹ کا جو واقعہ رونما ہوا اس پر ہر کشمیری کو تشویش لاحق ہوئی ہے کیونکہ اس وقت ہزاروں کشمیری طلبہ، طالبات اور تاجر باہر کی ریاستوں میں موجود ہیں اور جب انہوں نے اس واقعے کے بارے میں سنا اور سوشل میڈیا پر وہ ویڈیو بھی دیکھا جس میں کشمیری خواتین کو چالیس پچاس غنڈے جو آہنی ہتھیاروں ڈنڈوں اور ہاکیوں سے لیس تھے کو پیٹا جارہاتھا سے ان پر خوف طاری ہوگیا۔ تعجب کا مقام ہے کہ کوئی بھی اس وقت ان بے بس خواتین کی مدد کیلئے آگے نہیں بڑھا بلکہ آس پاس کے پڑوسی کشمیری خواتین کو پٹتے دیکھ کر محظوظ ہورہے تھے اور ویڈیوگرافی کر رہے تھے۔ اس واقعے کے بارے میں متاثرہ کنبے کے اراکین نے کہا کہ وہاں کے لوگوں میں کشمیریوں کیخلاف زبردست نفرت پائی جاتی ہے اور وہ ہر ایسے موقعے کی تاک میں رہتے ہیں جب انہیں کشمیریوں پر حملے کیلئے کوئی نہ کوئی بہانہ مل جائے۔ کہا جارہا ہے کہ گذشتہ دنوں شام کے وقت کشمیری کنبے میں شامل کئی خواتین اور ان کے ساتھ ایک مہمان شام کو گھر واپس لوٹ رہے تھے تو اس دوران چالیس سے پچاس غنڈوں نے ان کو روکا اور ان معزز کشمیری خواتین پر ڈنڈوں اور ہاکیوں اور آہنی ہتھیاروں سے حملہ کیا اور ان کی ہڈی پسلی ایک کردی گئی۔ یہ خواتین مدد کیلئے چیختی چلاتی رہیں لیکن کوئی مدد کیلئے نہیں آیا۔ اس معاملے کو اگر یونہی سرسری طور پر لے کر نظر انداز کردیا جائے گا تو کل ایسا ہی دوسرا کوئی واقعہ رونما ہوسکتا ہے ۔ اس بارے میں کشمیر پولیس کا یہ کہنا کس قدر سفید جھوٹ اور اس واقعے پر پردہ ڈالنے کے مترادف قرار دیا جاسکتا ہے کہ یہ واقعہ ہمسایوں کے درمیاں کسی آپسی تنازعے کی بنا پر رونما ہوا۔ اگر کشمیر پویس کا ہی بیان تسلیم کرینگے تو لڑائی ایک دو یا تین ہمسائیوں کے ساتھ ہوسکتی ہے نہ کر پوری بستی کے ساتھ ۔ چالیس پچاس غنڈوں کی فوج جو کشمیریوں کو دہشت گر د قرار دے رہے تھے اور کشمیریوں کیخلاف نعرے بلند کررہے تھے کا کیامطلب ہوسکتاہے؟ جیسا کہ متاثرہ کنبے کے افراد کا کہنا ہے کہ حملہ آور غنڈے کشمیریوں کیخلاف نعرے بلند کررہے تھے اوروہ کہتے تھے کہ کشمیریوں کو یہاں یعنی دلی سے نکال کر ہی دم لینگے۔ اس معاملے پر ریاستی حکومت کو خاموش نہیں رہنا چاہئے بلکہ اسے یہ معاملہ حکومت دلی کے ساتھ اٹھا کر حملہ آور غنڈوں کیخلاف اقدام قتل کا مقدمہ درج کروانا چاہئے۔ یہ ویڈیو دیکھ کر خوف طاری ہوتا ہے کہ کس طرح مسلح غنڈوں کی جماعت نے معصوم کشمیری خواتین پر حملہ کیا۔ اس بارے میں سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ سے اپیل کی کہ وہ اس کی تحقیقات کریں تاکہ ملوث افراد کو قرار واقعی سزا دی جاسکے اور ان کو ایسی سزاد ی جانی چاہئے تاکہ دوسروں کو عبرت حاصل ہوسکے اور کوئی بھی کشمیریوں کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی دیکھنے کی ہمت نہ کرسکے ۔ کشمیر پولیس نے بھی اس معاملے میں حقایق جانے بغیر جس طرح کا بیان جاری کیا عوامی حلقوں نے اس کی مذمت کی اور اسے کشمیرپولیس کا روائیتی طریقہ کار قرار دیاہے کیونکہ کشمیری پولیس نے دہلی پولیس کے بیان پر بعد تحقیقات بھروسہ کرکے ایک ایسا بیان داغ دیا جس سے کشمیری عوام کے دل مجروح ہوگئے ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں