فلسطینوں پر اسرائیلی فوج کی وحشیانہ بمباری میرواعظ نے ریاستی دہشت گردی کابدترین مظاہرہ قرار دیا

سرینگر/حریت کانفرنس ’ع‘کے چیرمین اور متحدہ مجلس علمائ کے امیر میرواعظ ڈاکٹر مولوی محمد عمر فاروق نے غزہ فلسطین میں قابض اسرائیلی فوج کی وحشیانہ بمباری سے ۵۵ سے زائد نہتے افراد کو شہید اور ہزاروں کو زخمی کئے جانے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ریاستی دہشت گردی کا بدترین مظاہرہ قرار دیا ہے ۔غزہ میں قابض اسرائیلیوں کی بربریت کے نتیجے میں قیمتی انسانی جانوں کے زیاں پر اپنے گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے میرواعظ نے کہا کہ جموںوکشمیر کے عوام غم و الم کی اس گھڑی میں اپنے مظلوم فلسطینی بھائیوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔مظلوم فلسطینی عوام پر ڈھائے جارہے تشدد اور مظالم کے تئیں عالمی برادری کی بالعموم اور مسلم امہ کی بالخصوص خاموشی کو حد درجہ افسوسناک قرار دیتے ہوئے میرواعظ نے کہا کہ اس دیرینہ تنازعہ کے حل کے تئیں اقوام عالم نے جو مجرمانہ خاموشی اختیار کررکھی ہے وہ اسرائیل کو اس مظلوم قوم پر انسانیت سوز مظالم ڈھانے کا جواز فراہم کررہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام سے زیادہ فلسطینی عوام کا دکھ اور درد کوئی دوسرا بہتر طور پر نہیں سمجھ سکتا ، کہیں بھی کشمیری عوام خود سرکاری دہشت گردی کی سب سے زیادہ شکار ہیں اور یہ قوم روز قتل و غارت ، مظالم ، تشدد ، ماردھاڑ کا سامنا کررہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ مسئلہ فلسطین اور مسئلہ کشمیر میں اس لحاظ سے بہت حد تک مماثلت ہے کیونکہ یہ دونوں مسائل گزشتہ کئی دہائیوں سے ان دونوں خطوں کے عوام کیلئے دکھ اور کرب کا باعث بنے ہوئے ہیں اور ان مسئلوں کے حل کے تئیں اقوام متحدہ بالخصوص عالم اسلام نے جو طرز عمل اختیار کیا ہے وہ حد درجہ افسوسناک ہے۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں