افغان طالبان براہ راست امریکا سے بات چیت کے خواہاں

سرینگر//﴿آفتاب ویب ڈیسک ﴾ افغان طالبان کے سربراہ، ہیبت اللہ اخونزادہ نیلڑائی بند کرنے کے لیے امریکہ کے ساتھ براہ راست مذاکرات کا اپنا مطالبہ دہرایا ہے۔ منگل کے روز جاری ہونے والے اْن کے بیان سیان توقعات نے جنم لیا ہے کہ ممکنہ طور پر باغی گروپ کابل حکومت کے ساتھ امن مکالمے میں شرکت کا سوچ رہا ہے۔عید الفطر کے موقع پر مبارک باد کے پیغام میں، جو ماہ رمضان کے اختتام پر منائی جاتی ہے، طالبان سربراہ نے ایک بار پھر اپنے گروپ کی عسکری مہم جوئی کا جواز پیش کیا، یہ کہتے ہوئے کہ ملک میں امریکی قیادت والی ’’قابض فوجیں‘‘ موجود ہیں۔اخونزادہ نے یہ بات صحافیوں کو جاری کیے گئے اپنے بیان میں کہی ہے، جو اْنھوں نے جمعے کے روز شروع ہونے والی عید کے سہ روزہ جشن کی مناسبت سے جاری کیا ہے۔اْنھوں نے کہا ہے کہ ’’اگر افغان گْتھی سلجھانے کے لیے امریکی حکام واقعی پرامن حل میں دلچسپی رکھتے ہیں، تو وہ فوری طور پر مذاکرات کی میز کی جانب آئیں تاکہ یہ ﴿ملک پر قبضے کا﴾ المیہ ختم ہو، جس کے تباہ کْن اثرات امریکی اور افغان عوام کو نقصان پہنچا رہے ہیں، جسے بات چیت کے ذریعے حل کیا جاسکے‘‘۔باغی لیڈر نے امریکی افواج پر الزام لگایا کہ افغانوں کو ’’زیر‘‘ کرنے کے لیے اور اْن پر ’’اپنا نظریہ‘‘ مسلط کرنے کے لیے افغان دیہات پر بمباری کی جارہی ہے۔اْنھوں نے اس بات پر زور دیا کہ ’’تمام مصائب سے اپنے آپ کو بچانے کا واحد حل یہی ہے‘‘ کہ تمام غیر ملکی ’’قابض افواج‘‘ ملک چھوڑ کر چلی جائیں‘‘ تاکہ ’’ایک آزاد، اسلامی بین الافغان حکومت جڑ پکڑ سکے‘‘۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں