مادر مہربان بیگم اکبر جہاں کو 18ویں یوم وصال پر خراج عقیدت مرحومہ نے خواتین کے معیار زندگی کو بہتر بنانے میں کلیدی رول ادا کیا

سرینگر//نیشنل کانفرنس نے ایک بیان میں مادر مہربان بیگم اکبر جہاں کو اُن کے 18یں یوم وصال پر زبردست الفاظ میں خراج عقیدت پیش کیا ہے۔ مرحومہ 67سال کے طویل عرصے تک کشمیری کی سیاسی، سماجی زندگی پر چھائی رہی۔ مادر مہربان نے ریاستی عوام کو خواب غفلت سے جگانے ، غلامی کے خلاف صف آرا ہوجانے، فرقہ وارانہ بھائی چارے کو تقویت دینے اور عوام خاص کر خواتین کے معیار زندگی کو بہتر بنانے میں کلیدی رول ادا کیا۔ اور اپنے آپ کو بیسویں صدی کی سب سے ممتاز کشمیری خاتون ثابت کرنے میں کامیابی حاصل کرلی۔ مادر مہربان کی قربانیوں، صبرو استقلال ، اُن کی پاکیزہ اور پارسا شخصیت کے نقوش ہماری جدید تاریخ کے صفحے صفحے پر موجود ہیں۔ مادرمہربان اکبر جہاں کی جدائی سچے معنوں میں ایک عہد کا خاتمہ اور بیسویں صدی کے کشمیر ایک ایک اہم باب کا اختتام ہے۔ حق تو یہ ہے کہ اِس سرزمین پر لَلہ دید اور حبہ خاتون کے ادوار کے صدیوں بعد خود اعتمادی کا پیکر مادر مہربان بیگم اکبر جہاں کا دور شروع ہوا تھا، جو جولائی 2000 کو اختتام پذیر ہوا۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ مادر مہربان نے اپنی ساری زندگی عبادت الٰہی میں گزار دی اور رفاہ عامہ میں صرف کردی۔ اُن کی توجہ کے خاص مستحق، اِس وطن کے نادار، غریب مفلس، محتاج اور حاجت مند افراد تھے اور مادر مہربان نے اُن کا مسیحا بن کر اپنے فرایض کو احسن طریقے سے نبھایا۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں