ماہرین فلکیات نے ابتدائی کائنات کے 13ارب سال قدیم روشن ترین جسم کا مشاہدہ کیا

کیلیفورنیا،10جولائی﴿یو این آئی﴾کائنات پھیلے مختلف کروں پر تحقیق اور مطالعہ کا کام دنیا بھر میں جاری ہے ۔سائنسدان اور ماہرین اس کیلئے دن رات محنت کررہے ہیں ۔اسی سلسلہ میں ماہرین فلکیات نے ایک اہم دریافت کرتے ہوئے بتایا ہے کہ انہوں نے قدیم یا ابتدائی کائنات کے روشن ترین جسم کو دیکھا ہے جو 13ارب نوری سال کے فاصلے پر واقع ہے ، یہ ایک کوزار ہے جو ایک قدیم کہکشاں کے مرکز میں بہت بڑے بلیک ہول پر مشتمل تھا۔تیرہ ارب نوری سال پرانے اس منظر کے بارے میں یہی کہا جاسکتا ہے کہ یہ تماشا اب ختم ہوچکا ہوگا کیونکہ ہم کائنات کی 13ارب سال پرانی تصویر دیکھ رہے ہیں۔ ماہرینِ فلکیات کے مطابق اس روشن تصویر کی وجہ یہ ہے کہ کوزار کے بیچوں بیچ موجود بلیک ہول بڑی تیزی سے مادہ نگل رہا تھا جس سے زبردست توانائی خارج ہورہی تھی جس کا مشاہدہ روشنی اور ریڈیو لہروں کی شکل میں گیا گیا ہے ۔ مادے اور گرد کا ایک عظیم ذخیرہ بلیک ہول کے اندر گرتے ہوئے اس تیزی سے گھوم رہا تھا جیسے ایک گڑھے میں پانی گرتے ہوئے بھنور کی طرح چکر کھاتا ہے ۔ اس سے بلیک ہول کے مرکز میں طاقتور ثقلی لہریں پیدا ہورہی تھیں۔ مادہ نگلتے دوران بلیک ہول سے پلازما کی بڑی مقدار خارج ہورہی تھی جو بہت روشن نظر آرہی ہے ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں