عمران خان اور مودی نئے دور کا آغاز کر سکتے ہیں

اطلاعات کے مطابق عمران خان اس مہینے کی 11تاریخ کو وزیر اعظم پاکستان کی حیثیت سے حلف اٹھارہے ہیں۔ روایات کے مطابق تقریب حلف برداری پر دنیا بھر کی معروف شخصیتوں کو شرکت کی دعوت دی جاتی ہے اور اس بات کے امکانات ہیں کہ اس تقریب میں شرکت کیلئے بھارت کے وزیر اعظم نریند ر مودی کو بھی دعوت دی جائے گی۔ کچھ روز قبل نریندر مودی نے عمران خان کے ساتھ ٹیلی فون پر رابطہ قایم کرکے ان کو ان کی کامیابی پر دلی مبارکباد پیش کی اور مستحکم پاکستان کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کو بہتر بنانے کی یقین دہانی بھی کرائی ہے۔ وزیر اعظم ہند کی طرف سے عمران خان کے ساتھ رابطے کو سفارتی حلقوں میں نہ صرف سراہا جارہا ہے بلکہ کہا جارہا ہے کہ اس سے واقعی دونوں ملکوں کے درمیان پائی جانے والی تلخیوں پر بھی قابو پانے میں مدد مل سکتی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان جو عنقریب پاکستان کے وزیر اعظم کے عہدے کی حیثیت سے حلف اٹھارہے ہیں نے پہلے ہی اس بات کا اعلان کیا ہے کہ وہ اپنے تمام ہمسایہ ممالک بشمول بھارت کے ساتھ تعلقات بہتر بناینگے تاکہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن قایم ہوسکے۔ جب عمران خان نے اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ تقریب حلف برداری پر وہ وزیر اعظم ہند کو بھی دعوت دے رہے ہیں تو اس پر پارٹی کے بااثر لیڈروں نے خوشی کا اظہار کیا ہے اور کہا کہ اس سے دونوں ملکوں کو ایک دوسرے کے قریب آنے کا موقعہ مل سکتا ہے۔ اس بات کے بھی امکانات ہیں کہ تقریب حلف برداری پر سارک ملکوں کے دوسرے سربراہوں کوبھی دعوت دی جاے گی۔ اس سے جنوبی ایشیائی ملکوں میں تعلقات میں ایک خوشگوار موڈ آسکتا ہے۔ جب نریندر مودی نے وزیراعظم کی حیثیت سے حلف اٹھایا تو انہوں نے پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف کو بھی شرکت کی دعوت دی تھی اور وہ بذات خود نئی دہلی آئے تھے لیکن بعد میں نہ جانے کیاہوا کہ تعلقات میں پھر سے تلخیاں پیدا ہوگئیں اور دونوں ملک سرد جنگ کے دہانے پر پہنچ گئے۔ بھارت اور پاکستان کے رہنما اگر صدق دل سے چاہیںگے تو تمام متنازعہ مسایل کا حل تلاش کیاجاسکتا ہے اور اس کیلئے مذاکرات کی میز سجانی ہوگی۔ مسئلہ کوئی بھی ہو جنگ سے کچھ نہیں ہوسکتا ہے بلکہ صرف مسئلہ بات چیت سے ہی حل کیاجاسکتا ہے اسوقت جبکہ پوری دنیا شدید اقتصادی بحران میں مبتلا ہوچکی ہے تو بھارت اور پاکستان دونوں میں سے کوئی بھی ملک کسی بھی مسئلے پر جنگ کے متحمل نہیں ہوسکتے ہیں کیونکہ جنگ سے صرف تباہی اور بر بادی ہی ہوتی ہے اور کچھ حاصل نہیں ہوسکتا ہے اگر دونوں ملکوںکی لیڈر شپ چاہے گی تو تمام متنازعہ مسایل کا حل تلاش کیاجاسکتا ہے اور وہ بھی پر امن طریقے پر۔ اس وقت بھارت میں نریندر مودی کی قیادت میں ایک مضبوط حکومت ہے جسے پارلیمنٹ میں زبردست اکثریت حاصل ہے اور اسی طرح عمران خان کو اگرچہ قومی اسمبلی میں اکثریت حاصل نہیں لیکن اسے عوام کی مکمل تائید و حمایت حاصل ہے اسلئے اگر دونوں رہنما چاہیںگے تو بھارت اور پاکستان آپس میں شیر و شکر ہوکر رہینگے اور تمام متنازعہ مسایل بشمول مسئلہ کشمیر خوش اسلوبی سے حل ہوکر رہے گا۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں