ایس ایس بی کے طریقۂ امتحان میں خامیاں,

,

گزشتہ چند دنوں سے یہ خبریں موصول ہوتی رہی ہیں کہ سروس سلیکشن بورڈ ﴿ایس ایس بی﴾ نے محکمہ سکول ایجوکیشن میں اساتذہ کی مختلف اسامیوں کیلئے جو تحریری امتحان لیا ہے، اس کے طریقۂ انعقاد اور اس کے نتائج جاری کرنے میں بڑے تساہل اور لاپرواہی سے کام لیا گیا ہے۔ بعض امیدواروں کو شکایت ہے کہ اچھے نمبرات حاصل کرنے کے باوجود اُن کا نام میرٹ لسٹ میں نچلے درجے میں رکھا گیا بلکہ کئی بااہل امیدواروں کا نام لسٹ میں شامل ہی نہیں کیا گیا ہے۔ جن اُمیدواروں کو اس نظامِ امتحان اور اس کی لسٹ جاری کرنے کے طریقہ کار پر شکایتیں ہیں اور جو اپنے حاصل شدہ نمبرات دیکھنے کے خواہاں ہیں انہوں نے حق اطلاعات قانون کے تحت درخواستیں بھی داخل کی ہیں، ایک مہینہ گزرنے کے باوجود انہیں اُن کے میرٹ کے بارے میں کوئی اطلاع فراہم نہیں کی گئی ہے۔ اگر دیانتداری سے جائزہ لیا جائے تو اِن امیدواروں کی شکایت برحق ہے۔ آج کے دور میں جب نہ صرف ہماری ریاست بلکہ پوری دنیا میں امتحانات کے انعقاد کے طریقے بدل دئے گئے۔ مقابلہ جاتی امتحانات کیلئے طویل مدتی امتحان کویکسر بدل کر مختصر مدتی امتحان کا طریقہ رائج کیا گیا ہے جس کیلئے او ایم آر (OMR)طریقے کا انتخاب کیا گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس نظامِ امتحان کے صحیح نتائج ظاہر کرنے میں ایک فیصد سے بھی کم غلطی ہونے کا امکان ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ طریقہ انتہائی شفاف اور ناانصافیوں سے پاک نظام ہے۔ لیکن ایس ایس بی جیسے اہم ترین محکمہ کی طرف سے اگر اس نظامِ امتحان کے انعقاد میں کوئی غلطی سرزد ہوجائے تو اسے ستم ظریفی اور بدقسمتی سے ہی تعبیر کیا جاسکتا ہے۔ عام طور پر یونیورسٹیوں اور دیگر تعلیمی اداروں میں طلبہ کے داخلہ کیلئے انتخاب میںOMR طریقۂ امتحان ہی رائج ہے۔ ان اداروں میں شامل اُمیدواروں کو امتحان ختم ہونے کے بعد اپنے جوابی پرچے سے متعلق کارکردگی کیلئے OMR شیٹ کے ساتھ منسلک ایک کاربن کاپی فراہم کی جاتی ہے تاکہ اُمیدوارگھر جاکر اپنے جواب نامے کو جانچ پرکھ کر مطمئن ہوسکے لیکن ایس ایس بی کے OMRشیٹ میں کاربن کاپی غائب تھی۔ اس سے امیدواروں کا شبہ ظاہر کرنا اور ایس ایس بی کی نیتوں پر شک کرنا ناجائز قرار نہیں دیا جاسکتا ہے۔ ان شکایتوں کا ازالہ کرنے کیلئے اُمیدواروں کے پاس اب صرف ایک راستہ بچ گیا ہے جس کے تحت وہ اپنی کارکردگی کی صحیح جانکاری حاصل کرسکتے ہیں۔ اس کیلئے ان امیدواروں نے حق اطلاعات قانون کے تحت درخواستیں دی ہیں تاکہ وہ اپنے جوابی پرچوں کی کاپی حاصل کرکے خود کو مطمئن کرسکتے ہیں۔ ستم بالائے ستم یہ ہے کہ ایک مہینہ سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود ان کو اپنے جوابی پرچے کی کاپی فراہم نہیں کی گئی ہے جبکہ قانون کے تحت صرف تیس دنوںکے اندر اندر جواب دینا لازم ہے۔ ایسے حالات میں امیدواروں کی مایوسیوں میں اضافہ ہونا فطری بات ہے۔ اگر ایسے ہی طریقے استعمال کئے گئے اور اسی طریقے کا تساہل برتا گیا تو امیداروں کیلئے پھر کون سا راستہ بچ جاتا ہے، یہ لمحۂ فکریہ ہے۔ سیدھی سی بات ہے کہ جن امیدواروں نے ان امتحانات میں شمولیت کی ہے اُن کو اپنی کارکردگی کے بارے میں معلومات فراہم کی جائے۔ اگر ایس ایس بی کے حکام کی نظروں میں یہ جائز نہیں ہے تو پھر اُن کی نیتوں پر شک کرنا بھی ناجائز نہیں ہے۔

,
مزید دیکهے

متعلقہ خبریں