تیل کی قیمتوں میں ناقابل برداشت اضافہ

تیل کی قیمتوں میں آئے روز اضافے سے قیمتوں کا ڈھانچہ درہم برہم ہوکر رہ گیا ہے۔ اشیائے ضروریہ کی قیمتیں بھی اب اعتدال پر نہیں رہتی ہیں۔ آج ایک نرخ تو کل دوسرے بھائو پر وہی اشیا دستیاب ہوتی ہیں۔ صارفین پریشان کن صورتحال سے دو چار ہیں اور مرکزی حکومت اس بارے میں کوئی موثر کاروائی کرنے سے قاصر نظر آتی ہے۔ خاص طورپر تیل کی قیمتوں میں اضافے نے تو لوگوں کو زبردست پریشان کیا ہے کیونکہ ایسا ماضی میں کبھی نہیں ہواتھا جو اب ہورہا ہے آج پیٹرول کے ایک دام اور کل دوسرے دام۔ ڈیزل قدرے کم قیمت پر دستیاب ہوتا تھا لیکن وہ بھی اب آہستہ آہستہ پیٹرول کے برابر آنے لگا ہے۔ تیل کی قیمتوں میں بار بار اضافہ اگرچہ عوام کیلئے ناقابل قبول قرار دیاجاسکتا ہے لیکن لوگ مجبور ہیں کیونکہ مرکزی حکومت اس بارے میں لوگوں کو کسی بھی طرح کی راحت پہنچانے میں دلچسپی کا مظاہرہ نہیں کررہی ہے۔ سابق وزیر خزانہ یشونت سنہا نے انکشاف کیا کہ جب وہ وزیر خزانہ تھے تو ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کا بوجھ خام تیل فراہم کرنے والی کمپنیوں، مرکزی حکومت اور عوام میں برابر تقسیم کیاجاتاتھا لیکن آج بقول ان کے سارے کاسارا بوجھ عوام پر ڈالا جاتا ہے جس سے لوگوں کو زبردست مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت کو عوام کی کوئی فکر نہیں۔ ایندھن کی قیمتوں میں بار بار اضافے نے عوام کی کمر توڑ کے رکھ دی ہے۔ اس وقت پیٹرول کی قیمت تقریباًتقریباً85روپے ہوگئی ہے۔ لوگ حیران و پریشان ہیں کہ وہ کس طرح ایندھن کی قیمتوں میں روز روز اضافے کا مقابلہ کرسکتے ہیں اسلئے مرکزی حکومت کو اس بارے میں فوری اقدامات کرنے چاہئیں تاکہ عوام کو اس طرح کی پریشان کن صورتحال سے نجات مل سکے۔ ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کا اثر دوسری اشیا خاص طور پر اشیائے خوردنی پر بھی پڑنے لگا ہے کیونکہ پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے سے ہر شے کی قیمتیں متاثر ہونے لگی ہیں۔ ایندھن کی قیمتوں میںاضافے سے صرف پیٹرول مہنگا نہیں ہوا ہے بلکہ ہر دوسر ی تیسری اشیائ کی قیمت بڑھ گئی ہے۔ آخر کار کب تک عام آدمی مہنگائی کے بوجھ تلے دبتے رہینگے۔ پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ اگرچہ کوئی نئی بات نہیں لیکن جس طرح اب آئے روز ایندھن کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں وہ عام آدمی کیلئے ناقابل برداشت بنتی جارہی ہیں۔ کیونکہ اس سے ہر کنبے کابجٹ بری طرح متاثر ہوا ہے۔ گذشتہ دنوں مختلف ریاستوں میں خواتین نے زبردست احتجاجی مظاہرے کئے۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ پیٹرول کی قیمتوں میں اگر اضافہ ایندھن تک ہی محدود رہتا تو لوگ یہ برداشت کرتے لیکن اب دالوں کی قیمتیں بھی بڑھنے لگی ہیں۔ ساگ سبزیاں بھی مہنگے داموں بک رہی ہیں۔ غرض ایسی کوئی اشیا نہیں جس کی قیمتوں میں اضافہ نہ ہوا ہے اسلئے مرکزی حکومت کو چاہئے کہ لوگوں کو اس عذاب سے چھٹکارا دلائے تاکہ عوام جو پہلے ہی مہنگائی کے بوجھ تلے دب گئے ہیں کو تھوڑی سی راحت مل سکے ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں