پنچایتی انتخابات ۔۔۔ صورتحال غیر واضح

پنچائتی اور بلدیاتی انتخابات کیلئے اگرچہ سرکاری سطح پر تیاریاں کی جارہی ہیں اور اس سلسلے میں ان تیاریوں کی تشہیر بھی کی جارہی ہے لیکن ابھی تک یہ سارا معاملہ ڈانواں ڈول لگ رہا ہے کیونکہ اس ریاست کی سب سے بڑی سیاسی پارٹی نے پہلے ہی ان انتخابات کا بائیکاٹ کرنے کا اعلان کیا ہے اور اس کے بعد پی ڈی پی صدر اور سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے بھی گذشتہ دنوں پونچھ میں اخباری نمایندوں کے ساتھ بات کرتے ہوئے اس بات کا اشارہ دیا ہے کہ ابھی تک پی ڈی پی نے ان انتخابات میں حصہ لینے کے بارے میں کوئی بھی فیصلہ نہیں کیا ہے اور اگر حالات میں کوئی تبدیلی نہیں لائی گئی تو بقول محبوبہ مفتی پی ڈی پی بھی الیکشن کا بائیکاٹ کرسکتی ہے۔ اس بیان سے ایسا لگ رہا ہے کہ شاید ہی پی ڈی پی ان انتخابات میں حصہ لے گی ۔ اس بارے میں اگلے دو ایک دن میں پوزیشن واضح ہوجائے گی ۔ اس دوران ریاستی حکومت نے پنچائیتی اور اربن لوکل باڈیز کے انتخابات کے سلسلے میں تیاریوں کا آغاز کیا ہے اور انٹر ڈیپارٹمنٹل پینل تشکیل دیا ہے ۔ ایک مقامی خبر ایجنسی نے باوثوق ذرایع کے حوالے سے بتایا ہے کہ پنچایتی انتخابات کے انعقاد سے قبل آل پارٹیز میٹنگ بلائی جارہی ہے تاکہ اس بارے میں اتفاق رائے قایم کرنے کے بعد ہی کوئی فیصلہ کیاجاسکے کیونکہ سیاسی پارٹیوں کے کئی رہنماوں نے کہا تھا کہ گورنر کو ان انتخابات سے قبل سیاسی پارٹیوں کو اعتماد میں لینے کیلئے آل پارٹیز میٹنگ بلانی چاہئے ۔ اب پنچائیتی انتخابات کے سلسلے میں جہاں سرکاری سطح پر تیاریاں کی جارہی ہیں لیکن سیاسی پارٹیاں ابھی تک اس بارے میں خاموش ہیں اور ان میں اس حوالے سے کوئی سرگرمی دکھائی نہیں دے رہی ہے ۔ ادھر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ اگر نئی دہلی آرٹیکل 35Aکے بارے میں اپنی پالیسی واضح نہیں کرے گی تو نیشنل کانفرنس پارلیمنٹ الیکشن کے علاوہ ریاست کے اسمبلی انتخابات کا بھی بائیکاٹ کرے گی جس سے صورتحال اور زیادہ گھمبیر ہوگئی ہے ۔ نئی دہلی سے جو اطلاعات موصول ہورہی ہیں ان کے مطابق ریاستی بی جے پی یونٹ اب بھی ریاست میں دوسرے ہم خیال ممبران اسمبلی کی حمایت سے سرکار بنانے کیلئے تگ و دو میں مصرو ف ہے ۔ ریاستی یونٹ کے کئی رہنماوں نے رام مادھو کے ساتھ ملاقات کے دوران قیام حکومت کے بارے میں تبادلہ خیال کیا جبکہ پیپلز کانفرنس کے چئیرمین سجاد غنی لون نے بھی رام مادھو کے ساتھ الگ سے ملاقات کی اور کشمیر میں حکومت سازی کے بارے میں صلاح مشورہ کیا ۔ پیپلز کانفرنس کے ریاستی اسمبلی میں دو ممبران ہیں ۔ بی جے پی کسی نہ کسی طرح 44ممبران کی حمایت حاصل کرنے کیلئے بے تاب نظر آرہی ہے تاکہ وہ اس ریاست میں اقتدار کے مزے لوٹ سکے لیکن ابھی تک اس کو دیگر ممبران کی حمایت حاصل نہیں ہوپارہی ہے ۔ غرض ریاست میں اس وقت سیاسی بحران کی سی کیفیت پائی جاتی ہے ۔ ابھی تک کوئی بھی سیاسی پارٹی اس بات کا فیصلہ نہیں کرسکی ہے کہ آیا وہ پنچائیتی انتخابات میں حصہ لے گی یانہیں جبکہ حکومت سازی کے حوالے سے بھی کوئی واضح تصویر سامنے نہیں آرہی ہے اسلئے آنے والے دنوں میں ہی صورتحال واضح ہوجائے گی ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں