سردیوں کے مسائل اور اُن کا حل

موسم بدل گیا ہے سردیاں شروع ہو گئی ہیں۔ اب صبح و شام اچھی خاصی سردی ہوتی ہے اگرچہ دن کو کھل کر دھوپ نکلنے سے سردی کا احساس نہیں ہوتا ہے لیکن جوں ہی سورج غروب ہوتا ہے تو آہستہ ہستہ سردیوں کا زور بڑھنے لگتا ہے اور لوگ بھی اب زیادہ دیر تک شام کو گھروں سے باہر رہنا پسند نہیں کرتے ہیں۔ ویسے بھی اس وقت جبکہ حالات دگر گوں ہیں شام کو لوگ جلدی جلدی گھروں کی راہ لیتے ہیں جس سے سرشام بازار بند ہوتے ہیں اور جن مارکیٹوں میں دن کو اچھی خاصی چہل پہل دکھائی دیتی ہے شام کو اچانک سناٹا چھا جاتا ہے۔ شہر میں جگہ جگہ ناکے لگاے گئے ہیں اور ہر آنے جانے والی کی تلاشی لی جاتی ہے اور گاڑیوں وغیرہ کی بھر پور انداز میں چکنگ کی جاتی ہے ۔ ان حالات میں لوگ لوگوں کوگھر پہنچنے کی فکر ہوتی ہے۔ جیسا کہ سب کو پتہ ہے کہ سردیاں اپنے ساتھ کشمیری عوام کیلئے بے شمار مصایب وہ مشکلات لے کرآتی ہیں۔ سردیاںابھی شروع نہیں ہوئیں کہ بجلی کی فراہمی میں خلل کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔ صبح و شام کئی کئی گھنٹے بجلی بند رکھی جاتی ہے اور پانی کی فراہمی میں بھی باقاعدگی نہیں رہی۔ اس پر طرہ یہ کہ ہر چیز کی قیمت بڑھتی جارہی ہے۔ عام لوگ اس صورتحال سے اس قدر پریشان ہیں کہ ان کی سمجھ میں یہ نہیں آرہا ہے کہ وہ کس سے فریاد کریں۔ اگر ساگ سبزیوں کی بات کریں تو ان کی قیمتوں کا کوئی اندازہ ہی نہیں لگا یا جاسکتا ہے۔ کشمیری ساگ کل تک ساٹھ روپے کلو کے حساب سے بکتا تھا لیکن آج اچانک اس کی قیمت میں بیس روپے فی کلو کا اضافہ کرکے اسے عام لوگوں کی پہنچ سے باہر کردیا گیا۔ ساگ چونکہ یہاں کی پیداوار ہے اور سب سے کم قیمت کی سبزی تصور کی جاتی تھی لیکن آج کل یہ حال ہے کہ یہ سب سے مہنگی سبزی بن گئی ہے۔ دوسری بات بیکری آئٹمز کی ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ بیکری والے اور ایسے ہوٹل مالکان جو بیکری بھی فروخت کرتے ہیں ہر روز اس کی قیمتوں میں اضافہ کرتے ہیں آج اگر کیک پچاس روپے میں بکتا ہے تو کل اس کی قیمت میں از خود اضافہ کرکے اسے ساٹھ ستر روپے کردیاگیا۔ اسی طرح دوسری اشیا ے خوردنی کی قیمتوں کو اعتدال پر رکھنے میں حکومت ناکام ہوگئی ہے ۔ کبھی کبھار میونسپلٹی اور محکمہ امور صارفین کے چکنگ سکارڈ بازاروں میں نظر آتے تھے لیکن اب تو صورتحال یہ ہے کہ وہ گدھے کے سروں سے سینگوں کی طرح غایب ہوگئے ہیں۔ جس طرح یہاں موسم کے بارے میں کوئی پیشن گوئی نہیں کی جاسکتی ہے اسی طرح قیمتوں کے بارے میں کبھی یہ نہیں کہا جاسکتا ہے کہ کس چیز کی قیمت کل کیا ہوگی۔ غرض انتظامیہ عوامی مسایل کا حل تلاش کرنے میں پوری طرح ناکام ہوگئی ہے۔ عوام کو روزمرہ کے مسایل و مشکلات سے نکالنے کیلئے انتظامیہ کو متحرک ہونا چاہئے لیکن ایسا نہیں ہورہا ہے۔ صوبائی انتظامیہ خواب خرگوش میں ہے۔ احتسابی عمل کا کہیں کوئی نا م و نشان تک نظر نہیں آرہا ہے۔ جس کے من میں جو آتا ہے وہ کر گزرتا ہے کوئی پوچھنے یا روکنے ٹوکنے والا نہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ حکومت نام کی کوئی چیز ہی نہیں۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں