بیروز گار نوجوانوں کو لوٹنے کا واقعہ

کرایم برانچ نے اس بات کا انکشاف کیا ہے کہ اس نے موہالی پنجاب کی ایک جاب کنسلٹنسی کیخلاف ایف آئی آر درج کیاہے جس نے کشمیری نوجوانوں کو بیرون ملک ملازمتیں فراہم کرنے کے نام پر لوٹا اور ان سے حاصل کی گئی 25لاکھ کی خطیر رقم ہڑپ کرلی۔اس سارے معاملے کے بارے میں کرایم برانچ کے ترجمان نے جو خلاصہ کیا اس کے مطابق وادی کے کئی طلبہ نے کرن نگر میں واقع ایک جاب کنسلٹنسی سے رابط کرکے بیرون ملک ان کیلئے ملازمتیں فراہم کرنے کیلئے درخواست کی۔ چنانچہ بقول ترجمان کرن نگر کی کنسلٹنسی کا چونکہ بیرون ریاست کسی بھی کمپنی کے ساتھ کوئی براہ راست رابط نہیں تھا تو اس نے موہالی پنجاب میں قایم ایک جاب کنسلٹنسی سے رابط کیا اور ان سے کشمیری نوجوانوں کیلئے بیرون ملک نوکریاں فراہم کرنے کیلئے کہا۔ چنانچہ جیسا کہ کرایم برانچ کا کہنا ہے کہ کرن نگر کی کنسلٹنسی نے موہالی پنجاب میں قایم کنسلٹنسی کو بقول ان کے پچیس لاکھ فراہم کئے جس کے بدلے انہوں نے وہاں سے ویزے وغیرہ بھیجے اور جب لڑکے یہ ویزے لے کر باہر جانے لگے تو ان کے ویزے جعلی پاے گئے اور ان پر جرمانہ عاید کیاگیا۔ چنانچہ معاملہ کرایم برانچ کے نوٹس میں لایا گیا جس نے موہالی پنجاب میں قایم کی گئی جاب کنسلٹنسی کیخلاف ایف آئی آر درج کیا۔ اس سلسلے میں جومزید انکشافات ہوئے ہیں ان کے مطابق جو چار لڑکے سنگا پور بھیجے گئے تھے ان کو سنگا پور ائیر پورٹ پرروکا گیا اور جب وہاں ان کے دستاویزات کا بغور جائیزہ لیاگیا تو پایا گیا کہ وہ سب کے سب جعلی دستاویزات پر سفر کررہے تھے ان چاروں کشمیری لڑکوں کو واپس بھیج دیا گیا اور دہلی اپرپورٹ پر ان سے فی کس چالیس چالیس ہزار کا جرمانہ وصول کرنے کے بعد ان کو واپس یہاں آنے کی اجازت دی گئی۔ ان کے والدین پر کیا گذری ہوگی جب انکے اعلی تعلیم یافتہ بچے بغیر نوکریاں واپس آگئے اور اوپر سے لاکھوں کی رقم بھی جاب کنسلٹنسی والے ہضم کرگئے۔ اب کرایم برانچ نے پنجاب کی جاب کنسلٹنسی کیخلاف ایف آئی آر درج کرلیا ہے تو کیا ان کشمیری نوجوانوں کو وہ پیسے واپس مل سکتے ہیں جو ان سے نوکریاں دلانے کے نام پر حاصل کرکے ہڑپ کرلئے گئے ۔ اب اس معاملے میں کرایم برانچ پر بھاری ذمہ داریاں عاید ہوتی ہیں کہ وہ کسطرح اس معاملے میں عدل و انصاف کے تقاضوں کو پورا کرے گا۔ اس جاب کنسلٹنسی جو کرن نگر میں قایم کی گئی ہے کو بھی اس معاملے میں اہم رول ادا کرنا ہوگا اور پنجاب کی اس جعلساز کمپنی کیخلاف کاروائی میں کرایم برانچ کو بھر پور تعاون دینا ہوگا تاکہ آیندہ کسی بھی بیروزگار نوجوان کو نوکری دلانے کے نام پر لوٹا نہ جاسکے۔ وادی میں جتنی بھی ایسی کمپنیاں ہیں ان کو یہ بات یقینی بنانی چاہئے کہ ان کے ہاتھوں کسی بھی بیروز گار کے ساتھ اس طرح کا واقعہ پیش نہیں آنا چاہئے کیونکہ نہ معلوم کون کون سے پاپڑ بیل کران کے والدین نے پیسہ پیسہ جمع کرکے اپنے بچوں کو پڑھایا پھر ان کو نوکریاں دلانے کیلئے ان کیلئے پیسوں کا انتظام کیا لیکن پنجاب کے جعلساز کمپنی مالک نے ان کی ساری امیدوں پر پانی پھیر دیا۔ اور بیروزگار نوجوانوں کیلئے جعلی ویزا اور تقرریوں کے جعلی کاغذات ان کے ہاتھوں میں تھما کر ان بیروزگار نوجوانوں کے مستقبل کو تاریک بنادیا۔ اسلئے کرایم برانچ کو اس بارے میں فوری تحقیقات کرکے ان عناصر کیخلاف سخت کاروائی کرنی چاہئے جنہوں نے کشمیری نوجوانوں کے ساتھ دھوکہ کیا۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں