حریت قائدین اور کارکنوں کی گرفتاریاں اور خانہ نظر بندی - حریت گ نے پولیس کارروائیوں کی مذمت کی

سرینگر//چیرمین حریت گ سید علی گیلانی، میر واعظ محمد عمر فاروق اور محمد اشرف صحرائی بدستور اپنے گھروں میں محصور رکھے گئے ،جبکہ محمد یٰسین ملک سب جیل کوٹھی باغ، حریت ترجمان غلام احمد گلزار اور حکیم عبدالرشید کوٹ بلوال منتقل کیا گیا اور بلال احمد صدیقی، نثار حسین راتھر، محمد یوسف نقاش، محمد اشرف لایا، میر حفیظ اللہ، رئیس احمد میر، عاشق حسین نارچور، سرتاج احمد، دانش احمد سمیت سینکڑوں کارکنوں اور جوانوں کو مختلف تھانوں میں پابند سلاسل بنا دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ وادی کے طول وعرض میں نوجوانوں کے خلاف پولیس کریک ڈاؤن جاری ہے۔ حریت کانفرنس نے الیکشن ڈرامے کے موقعے پر جملہ آزادی پسند قیادت کو نظربند کرنے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ حکومت کی طرف سے شکست کا کُھلا اعتراف ہے اور اس سے ثابت ہوتا ہے کہ مجوزہ انتخابات محض ایک فوجی آپریشن ہے اور اس کو کسی بھی صورت میں آزادانہ اور شفاف جمہوری عمل قرار نہیں دیا جاسکتا ہے۔ حریت کانفرنس نے کہا کہ بھارت کے قبضے سے آزادی حاصل کرنے کے لیے ہم نے ایک طویل جدوجہد کی ہے اور اس میں ہم نے آج تک 6/لاکھ سے زائد جانوں کی قربانی پیش کی ہے۔ وہ کوئی گھر یا خاندان نہیں، جس کو زخم نہیں لگے ہیں اور جس نے قربانیوں میں اپنا حصہ پیش نہ کیا ہو۔ حریت کانفرنس نے اپنے بیان میں دوٹوک الفاظ میں کہا کہ الیکشن ڈراموں میں حصہ لینا اور ووٹ ڈالنا نہ صرف ان قربانیوں کے ساتھ غداری اور سودابازی ہے، بلکہ اس طرح سے ہم بھارت کو جواز فراہم کر کے فوجی قبضے کو مضبوط بنانے کے مجرم بن جاتے ہیں۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں