برفباری نے قہر ڈھایا,

,

موسم کی قہر سامانیوں کی وجہ سے لوگوں کو ایک بار پھر زبردست مالی نقصان سے دوچار ہونا پڑا۔ 3نومبر کی غیر متوقع برفباری نے وادی کے لوگوں کو بڑی مصیبت میں ڈالدیا۔ جہاں مواصلاتی نظام پوری طرح درہم برہم ہوکر رہ گیا۔ وہیں کروڑوںروپے مالیت کامیوہ تباہ ہوگیا کیونکہ وادی کے طول و عرض میں میوہ دار درخت یا تو جڑ سے اکھڑ گئے یا بیچ میں ہی ان کی ٹہنیاں ٹوٹ گئیں اس طرح ان پر جو میوہ تھا وہ ضایع ہوگیا۔ وادی کے ہر اس علاقے جہاں میوہ باغات ہیں میں ایسی ہی صورتحال دیکھی گئی۔ وادی بھر کے فروٹ گروورس نے موسم کی قہر سامانیوں پر شدید رنج و غم کا اظہار کیا اور کہا کہ ان کی سال بھر کی کمائی ایک ہی جھٹکے میں ختم ہوگئی۔ فروٹ گروورس کا کہنا ہے کہ عام حالات میں نومبر کے آخری ہفتے سے درختوں کی شاخ تراشی کی جاتی ہے لیکن اس بار وقت سے پہلے ہی برفباری کی وجہ سے میوہ دار درخت ختم ہوکر رہ گئے جس سے ان کی سال بھر کی کمائی ختم ہوکر رہ گئی۔ فروٹ گروورس نے کہا کہ انہوں نے مختلف بنکوں سے قرضہ حاصل کرکے یہ کاروبار شروع کیا ہے لیکن اب ان کیلئے قسطوں کی ادائیگی بھی مشکل بن کر رہ گئی۔ فروٹ گروورس سخت مشکل میں پڑگئے ہیں۔ اسلئے گورنر انتظامیہ کو چاہئے کہ فرووٹ گروورس کو ہوئے نقصان کا تخمینہ لگا کر مالی امداد کیلئے اقدامات کئے جائیں۔ اسی طرح موصلاتی نظام بھی جلد از جلد بحال کرنے کی کوششیں کی جانی چاہئیں۔ تاکہ لوگوں کو راحت مل سکے۔ ادھر جو ملازمین دربار موئو کے سلسلے میں سنیچر کو جموں روانہ ہوئے تھے ان میں سے بیشتر راستے میں ہی پھنس کر رہ گئے۔ ان میں سے سینکڑوں ملازمین اور دوسرے لوگوں جن کے ساتھ ان کے اہل خانہ بشمول بچے بھی تھے رات بھر ٹنل میں کڑاکے کی سردی میں رہے جن کو کل وہاں سے نکالا گیا۔ جیسا کہ اس سے پہلے بھی ان ہی کالموں میں لکھا گیا کہ اگر سڑک کی حالت نا گفتہ بہہ تھی تو دربار موئو ملازمین کو لے کر گاڑیوں کو کیونکر یہاں سے جموں کی اور جانے کی اجازت دی گئی ۔اس کیلئے کون ذمہ دار ہے اس کا گورنر انتظامیہ کو جایئزہ لینا چاہئے اور غفلت شعاری کے مرتکب افسروں کے خلاف قانونی کاروائی کی جانی چاہئے۔ برفباری سے ہر سال ڈرینیج سسٹم بند ہو جاتا ہے اور سڑکیں جھیلوںکا منظر پیش کرتی ہیں ۔اگرچہ بارشوں سے ایسا ہوتا ہے لیکن یہاں تو عرصہ دراز سے ڈرینیج کے بارے میں یہ شکایت عام ہے کہ اس کی طرف متعلقہ حکام توجہ نہیں دیتے ہیں۔ ڈی واٹرنگ پمپ بھی وقت پر کام نہیں کرتے ہیں نتیجے کے طور پرنشیبی علاقے معمولی بارشوں سے پانی سے بھر جاتے ہیں اور عبور ومرور مشکل بن جاتا ہے۔ آج کل شہر کے مضافاتی علاقے ایسا ہی منظر پیش کرتے ہیں۔ چاروں اور پانی ہی پانی ۔ جب بجلی نہیں تو پمپ بھی کام کرنے سے قاصر ،کئی مقامات پر پمپ چلانے کیلئے ڈیزل بھی دستیاب نہیں تھا غرض برفباری نے کشمیریوں کیلئے مصیبتیں ہی مصیبتیں لائی ہیں اسلئے صوبائی انتظامیہ پر یہ لازم ہے کہ وہ اس بار کی برفباری سے سبق سیکھے اور آنے والی امکانی برفباری سے نمٹنے کیلئے بھر پور اقدامات کئے جائیں۔

,
مزید دیکهے

متعلقہ خبریں