ایران نے امریکی پابندیاں توڑنے کی ٹھان لی

تہران/ ایرانی صدر حسن روحانی نے کہا ہے کہ وہ امریکہ کی جانب سے دوبارہ عائد کی گئی اقتصادی پابندیوں کو توڑیں گے۔ ٹرمپ انتظامیہ نے کہا ہے کہ 2015 میں جوہرے معاہدے کے تحت ایران کے خلاف جو پابندیاں ہٹائی گئی تھیں انھیں دوبارہ لاگو کیا جارہا ہے۔ ان پابندیوں کا ہدف ایران میں تیل کی صنعت اور بنکاری کا شعبہ شامل ہیں۔ تاہم ایرانی صدر نے کہا ہے کہ ایران تیل کی فروخت جاری رکھے گا۔ اقتصادی امور کے اہلکاروں کے ایک اجلاس میں انھوں نے کہا کہ ’ہم فخر سے یہ پابندیاں توڑیں گے۔‘ وہ یورپی ممالک جو ابھی بھی جوہری معاہدے کا حصہ ہیں، کہہ چکے ہیں کہ وہ ایرانی کاروباروں کو پابندیوںکے باوجود کام جاری رکھنے میں مدد کریں گے تاہم اب یہ واضح نہیں کہ ایسا کس حد تک ممکن ہو سکے گا۔ اس سے قبل ایران میں وزارت خارجہ کے ترجمان بہرام قاسمی نے سرکاری ٹی وی سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایران اپنے اقتصادی معاملات چلانے کی صلاحیت اور علم رکھتا ہے۔ انھوں نے کہا امریکہ اس طرح کے اقدامات سے کبھی اپنے سیاسی مقاصد حاصل نہیں کر سکے گا۔ ایران میں پیر کی صبح اس حوالے سے ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔ سخت گیر موقف رکھنے والے ان مظاہرین کی جانب سے امریکہ کے ساتھ مذاکرات کی مخالفت بھی کی گئی۔ ادھر ایران کے ایک طاقتور ادارے گارڈین کونسل ﴿شورائے نگہبان﴾ نے پارلیمان کو ایک بِل پر دوبارہ غور کرنے کا حکم دیا جس کے تحت ایران اقوام متحدہ کی دہشت گردی کی مالی معاونت کے خلاف معاہدے کا حصہ بن جائے گا۔ اس کا مقصد بظاہر انٹرنیشنل فائنینشل ایکشن ٹاسک فورس کو یقین دہانی کروانا تھا کہ ایران عالمی تقاضوں کو پورا کر رہا ہے۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں