رام مندر تعمیر کرنے کیلئے سپریم کورٹ پر سنگھ پریوار کا دبائو ڈالنا

پروفیسر سیف الدین سوز نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ میں اس بات کیلئے بہت ہی دُکھ محسوس کر رہا ہوں اور پریشان بھی ہوں کہ آر ایس ایس / بی جے پی سنگٹھن کے کچھ سرکردہ لیڈروں نے سپریم کورٹ کو اجودھیا میں فوری طور رام مندر تعمیر کرنے کیلئے دھمکانا شروع کیا ہے اور ان لیڈروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ سپریم کورٹ جلد از جلد فیصلہ سنائے۔ اس سنگٹھن کے کچھ لیڈر یہ کہتے ہیں کہ اجودھیا میں رام مندر تعمیر کرنے کیلئے ہندو سماج کی مجبوری ہے۔ ایسے لیڈر سپریم کورٹ کو زور دار طریقے سے یہ کہنے لگے ہیں کہ ہندو سماج اجودھیا میں جلد از جلد رام مندر تعمیر کرنا چاہتا ہے کیونکہ یہ سماج بڑی دیر سے یہ مطالبہ کرتا آیا ہے ۔اس لئے اب زیادہ دیر نہیں ہونی چاہئے ۔اس سماج کی آواز کو زور دار اور ہندوستان گیر تحریک بنانے کیلئے کچھ میڈیا چینلوں نے بھی اپنا کام شروع کر دیا ہے۔ دوسرے الفاظ میں ہندو سماج کے آر ایس ایس ۔ بی جے پی سے وابستہ لیڈر سپریم کورٹ آف انڈیا کو یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ سپریم کورٹ کو ہندو سماج کی یہ مجبور ی سمجھنی چاہئے کہ اجودھیا میں ہر صورت میں رام مندر تعمیر ہوگا۔ آج کے دن سپریم کورٹ کے اندر جج صاحبان کی کیا کیفیت ہوگی ، اس سے لوگ بے خبر رہیںگے کیونکہ سپریم کورٹ آئین اور قوانین کے مطابق ہندوستان کے لوگوں کے سامنے اپنی رائے نہیں رکھ سکتے ۔ُاُن کو جو کچھ بھی کہنا ہے وہ اُسی موقع پر کہیں گے جب اُن کو اپنا فیصلہ سنانا ہوگا!

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں