سرینگر-جموں شاہراہ پر ٹریفک رواں دواں مغل روڑ ،سرینگر لیہہ شاہراہ ہنوز بند۔بانڈی پورہ ،گریز روڑ پر ٹریفک بحال

سری نگر/کے این این/ہفتہ اوراتوار کو پیر پنچال کے آر پار ہوئی برفباری کے بعد ،جہاں موسمی صورتحال میں نمایاں تبدیلی دیکھنے کو مل رہی ہے ،تاہم پانچ روز گزر جانے کے باوجود ابھی بھی کشمیر وادی کو ریاست کے دیگر حصوں سے جوڑنے والے اہم زمینی رابطے ہنوز منقطع ہیں ۔اگر چہ سرینگر ۔جموں شاہراہ یکطرفہ ٹریفک کیلئے کھلی اور بانڈی پورہ ۔گریز روڑ کوبھی5روز بعد ایڈوائزی کے ساتھ ٹریفک کی آوا جاہی کیلئے کھول دیا گیا ہے ،تاہم اس کے باوجود تاریخی مغل روڑ ، کشتواڑ،سمتھن روڑ اور سرینگر ،لہیہ شاہراہ کے ساتھ ساتھ دیگر کنڈی وسرحدی علاقوں کے بین الضلعی و بین الاریاستی راستے اب بھی بند ہیں ۔ مابعد برفباری کشمیر وادی کے اہم ترین زمینی رابطے اب بھی منقطع ہیں ۔موصو لہ اطلاعات کے مطابق سرینگر ۔لہیہ شاہراہ اور مغل روڑ بدھ کو مسلسل 7ویں روز بھی ٹریفک کی آوا جاہی کیلئے بند رہے ۔حکام کا کہنا ہے کہ اِن دونوں اہم راستوں کو برفباری کے بعد پھسلن پیدا ہونے،حادثات کو روکنے اور انسانی جانوں کے تحفظ کیلئے بند رکھا گیا ۔انہوں نے کہا کہ سرینگر ،لہیہ شاہراہ ار مغل روڑ پر ٹریفک کی آوا جاہی کو بحال کرنے کیلئے برف ہٹانے کیلئے افرادی قوت اور مشینری کو کام پر لگا دیا گیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ’’ روڑ کلیئر نس اتھا رٹی ‘‘ کی جانب سے ہری جھنڈی ملنے کے بعد ہی سرینگر ،لہیہ شاہراہ جو کہ434کلو میٹر طویل ہے اور تاریخی مغل روڑ پر ٹریفک کی روانی بحال کردی جائیگی ۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ سرینگر ،لہیہ شاہراہ خطہ لداخ ۔کرگل کو کشمیر کے ساتھ جوڑ تی ہے جبکہ یہ شاہراہ موسم سرما کے دوران بھاری برفباری کے باعث کم ازکم 4ماہ تک بند رہتی ہے ۔اس شاہراہ کو ہر موسم میں قابل عمل بنانے کیلئے زوجیلا ٹنل تعمیر کرنے کا منصوبہ ہے ۔تاریخی مغل روڑ کوسرینگر ۔جموں شاہراہ کا متبادل تصو ر کیا جاتا ہے ۔یاد رہے کہ پی ڈی پی ۔بھاجپا کے دور اقتدار میں مرکز نے مغل روڈ کو قومی شاہراہ کا درجہ دینے سے اصولی طور پر اتفاق کیاتھا ۔غور طلب بات ہے کہ مرکزی سرکار نے جموں اور کشمیر صوبوں کو پیر پنچال خطے سے جوڑنے والی مغل روڑ سڑک کو قومی شاہراہ کا درجہ دینے سے اصولی طور پر اتفاق کیا ہے اور یہ فیصلہ اُ س وقت خاتون وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی/جاری صفحہ ۱۱ پر
سرینگر۔جموں شاہراہ. اور ٹرانسپورٹ او رشاہراہوں کے مرکزی وزیر نیتن گڈکری کے درمیان ایک میٹنگ کے دوران لیا گیا تھا ۔ادھر موصولہ اطلاعات کے مطابق کشمیر وادی کو با قی ماندہ دنیا سے زمینی طور جوڑنے والی 300کلو میٹر طویل سرینگر ۔جموں شاہراہ پر یکطرفہ ٹریفک جاری ہے ۔بدھ کو جموں سے سرینگر کی طرف گاڑیوں کو آنے کی اجازت دی گئی جبکہ سرینگر سے جموں کی طرف کسی بھی گاڑیوں کو جانے کی اجازت نہیں دی گئی ۔ٹریفک حکام کا کہنا ہے کہ یکطرفہ ٹریفک کے اقدامات شاہراہ پر ٹریفک نہ ہونے ،حادثات سے بچنے اور انسانی جانوں کی سلامتی کیلئے اٹھائے گئے ہیں ۔اس دوران5روز بعد بانڈی پورہ ،گریز روڑ پر ٹریفک کی آوا جاہی بحال کردی گئی ۔برفباری کے بعد یہ روڑ گزشتہ 5روز تک ٹریفک کی آوا جاہی کیلئے بند رہا ۔84کلو میٹر طویل بانڈی پورہ ۔گریز روڑ کو کھولے جانے سے متعلق جانکاری ضلع ترقیاتی کمشنر ڈاکٹر شاہد اقبال چودھری نے سماجی رابط ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے دی ۔انہوں نے کہا کہ گریز روڑ کھلا ہے ۔انہوں نے کہا کہ تراگہ بل تک روڑ دوطرفہ کھلا ہے جبکہ ترا گہ بل سے داور تک روڑ یکطرفہ کھلا ہے ۔روڑ پر 4*4ا گاڑیوں ور احتیاطی زنجینئر ٹائیروں پر لگانے کیلئے مشورہ دیا گیا ہے ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں