ناروے کے سابق وزیر اعظم کا دورہ کشمیر

نار وے کے سابق وزیر اعظم نے حال ہی میں وادی کا دورہ کرکے حریت رہنمائوں کے ساتھ تفصیلی بات چیت کی اس کے بعد وہ پاکستان گئے اور وہاں بھی پاک حکام کے ساتھ کشمیر مسلئے پر تبادلہ خیال کیا۔ وادی میںقیام کے دوران ان کے اور حریت رہنمائوں کے درمیان ملاقات میں حریت رہنمائوں نے ان کو کیا بتادیا اور انہوں نے کیا کہا اس بارے میں اگرچہ کچھ معلوم نہیں ہوسکا لیکن جب وہ پاکستان تشریف لے گئے تو انہوں نے حریت رہنمائوں اور ان کے درمیان ہوئی بات چیت کا خلاصہ ضرور پیش کیا ہوگا۔ اپنے اس دورے کے بعد انہوں نے نئی دہلی میں ایک موقر انگریزی روزنامے کو انٹرویو میں بتایا کہ اگر بھارت اور پاکستان کی طرف سے ان کو کشمیر پر ثالثی کیلئے کہاجائے گا تو وہ تیار ہیں اور چاہتے ہیں کہ یہ مسئلہ جو جنوبی ایشیا میں دو ملکوں کے درمیان 70برسوں سے لٹکاہواہے حل ہوسکے۔ اپنے اس انٹرویو میں ناروے کے سابق وزیر اعظم نے کہا کہ کشمیر کا مسئلہ ہر صورت میں حل ہونا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی برادری بھی مسئلہ کشمیر حل کروانے میں دلچسپی رکھتی ہے اور یہ مسئلہ صرف اور صرف بات چیت سے ہی حل ہوسکتا ہے۔ جب انٹرویو کے دوران ان سے پوچھا گیاکہ وہ کس طرح یا کس کے کہنے پر کشمیر آئے تو انہوں نے اس بات کا انکشاف کیا کہ کشمیر دورے کی کلئیرنس نظر نہ آنے والے ہاتھوں نے دی۔ جس کا یہ مطلب ہوا کہ کشمیر مسئلہ حل کروانے کیلئے ٹریک ٹو سطح پر سرگرمیاں جاری ہیں اور اسی سلسلے کی کڑی کے طور پرناروے کے سابق وزیر اعظم کے دورہ کشمیر کو دیکھاجاسکتا ہے۔ اگرچہ اس کو قابل سراہنا اقدام سے تعبیر کیاجاسکتا ہے لیکن بھارت کی طرف سے سارک سربراہ کانفرنس میں شرکت سے انکار نے بھارت اور پاکستان کے درمیان دوریوں کو اور زیادہ بڑھادیا ہے کیونکہ اگر بھارت کی اس سربراہ کانفرنس میں نمایندگی ہوتی تو ہوسکتا تھا کہ وہاں بات چیت کا دور بھی چلتا جس سے کوئی نہ کوئی نتیجہ بر آمد ہوتا اور دونوں ملکوںکے درمیان متنازعہ مسایل کا حل تلاش کرنے کی کوشش کی جاتی۔ کرتار پور کاریڈور کی افتتاحی تقریب پر تقریر کرتے ہوئے پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے جو یہ کہا کہ بھارت ایک قدم آگے بڑھائے گا تو پاکستان دو قدم آگے بڑھانے کیلئے تیار ہوگا پربھی بھارت نے کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیاحالانکہ کرتار پور کاریڈور کا قیام دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات میں ایک خوشگوار موڑ لا سکتا ہے لیکن اس پر بھی بھارت نے سرکاری طور پر کوئی خاص ردعمل ظاہر نہیں کیا۔ ان حالات کو دیکھتے ہوئے ایسا لگتا ہے کہ بھارت ابھی پاکستان کے ساتھ دوستانہ تعلقات بڑھانے کیلئے سنجیدہ نہیں ہے۔ بھارت کی طرف سے پاکستان پر دہشت گردی کی حمایت اور عملی اعانت کا بار بار الزام عاید کیاجارہا ہے لیکن پاکستان کا کہنا ہے کہ وہ خود دہشت گردی کا شکار ہے تو دوسروں کیخلاف دہشت کی حمایت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ہے۔ غرض بر سہابرس سے الزامات اور جوابی الزامات کا سلسلہ جاری ہے۔ دونوں ملکوں کے لوگ امن چاہتے ہیں اسلئے بھارت اور پاکستان کی موجودہ قیادت کو چاہئے کہ وہ عوامی امنگوں اور خواہشات کو عملی جامہ پہنا کر جنگ و جدل سے گریز کرکے متنازعہ مسایل کے حل کیلئے بات چیت کا سلسلہ شروع کریں اسی میں ان دونوں ملکوں کی بھلائی کا راز مضمر ہے ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں