بجلی کی فراہمی میں بہتری کے وعدے سراب

گورنر کے مشیر کے کے شرما نے کل یہاں بتایا کہ ریاستی حکومت ریاست بھر میں 2020تک بجلی کی کمی کے مسلئے کو حل کرے گی۔ انہوں نے متعلقہ افسروں کو ہدایات دیں کہ وہ ان علاقوں تک رسائی یقینی بنائیں جہاں بجلی کے پروجیکٹ ابھی تک مکمل نہیں کئے گئے۔ انہوں نے کہا کہ بجلی اس ریاست کا دوسرا اہم مسئلہ ہے۔ جسے ہر حال میں حل کیاجانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ سولر اور دیگر قابل تجدید توانائی کو بروئے کار لاکر اس مسلئے کو حل کرنے کی کوشش کی جائے گی انہوں نے اس بات کا بھی انکشاف کیا کہ اس مہینے یعنی دسمبر کے وسط تک آلسٹینگ گرڈ سٹیشن تکمیل کو پہنچ جائے گا اور اس کے چالو ہونے سے ریاست میں بجلی کی صورتحال میں سدھار لایا جاسکتا ہے۔ جہاں تک مسٹر شرما کے کہنے کا تعلق ہے انہوں نے وہی کچھ بتایا جو ان کو انجینئرصاحبان نے گوش گذار کیاہوگا لیکن یہ حقیقت ہے کہ وادی میں کبھی بھی ضرورت کے مطابق لوگوں کو بجلی فراہم نہیں کی جاسکی اور شاید یہی وجہ ہے کہ وادی اقتصادی طور پر ہمیشہ سے پسماندہ رہی ہے اور کبھی بھی آگے نہیں بڑھ سکی ہے۔ کشمیر کے جموں خطے کا جہاں تک تعلق ہے تو وہاں کس طرح اس وقت چوبیس گھنٹے بجلی کی فراہمی جاری رہتی ہے جبکہ کشمیر میں گرمائی ایام کے دوران بھی کٹوتی شیڈول برقرار رکھاجاتا ہے۔ عام لوگوں کا خیال ہے کہ بجلی کی فراہمی کے معاملے میں وادی کے ساتھ سوتیلی ماں کا سا سلوک کیاجاتا ہے کیونکہ گزشتہ ستر برسوں سے کبھی بھی یہ مسئلہ حل نہیں کیاجاسکا ہے۔ اس وقت صورتحال یہ ہے اور جیسا کہ محکمے کی طرف سے جاری کئے جانے والے اعداد وشمار کا تعلق ہے تو 95فی صد لوگ وقت پر فیس ادا کرتے ہیں پھر کیاوجہ ہے کہ ان کو فیس کے مطابق بجلی فراہم نہیں کی جارہی ہے۔ وادی میں بجلی کی فراہمی میں بار بار خلل کی سب سے بڑی وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ یہاں این ایچ پی سی نے تمام بڑے پروجیکٹ اپنی تحویل میں لئے ہیں اور ان کیلئے برائے نام بھی رائیلٹی ادا نہیں کی جارہی ہے۔ کسی کو یہ معلوم ہی نہیں ہے کہ ریاستی حکومت اور این ایچ پی سی کے درمیان کیا معاہدہ طے ہوا جب اس کمپنی نے وادی کے بڑے بڑے بجلی پروجیکٹوںپرقبضہ کیا۔ اس وقت کے وزیر آبپاشی تاج محی الدین نے انکشاف کیا کہ این ایچ پی سی اور ریاستی حکومت کے درمیان طے شدہ معاہدے کی فائیلیں غایب ہوگئی ہیں اور ایک بھی فایل سیکریٹریٹ میں موجود نہیں ہے۔ ان حالات میں این ایچ پی سی نے بھی خاموشی اختیار کی ہے اور یہاں سے جو پاور ان کو حاصل ہوتا ہے وہ سب شمالی گرڈ کو فراہم کیاجاتا ہے جہاں سے اسے بھارت کی دوسری ریاستوں سواے کشمیر فراہم کیا جاتا ہے۔ اسلئے اس بات کی کوئی گارنٹی نہیں دی جاسکتی ہے کہ یہاں کبھی بجلی کی صورتحال بہتر ہوسکتی ہے۔ جموں کے مقابلے میں تو وادی کو دس فی صد بھی بجلی فراہم نہیں کی جاتی ہے۔ اگر گورنر انتظامیہ وادی کو بجلی کی فراہمی کے معاملے میں سنجیدہ ہے تو اسے سب سے پہلے این ایچ پی سی سے کشمیر کے سارے پروجیکٹ حاصل کرنے ہونگے اس کے بعد ہی بجلی کی صورتحال میں بہتری لائی جاسکتی ہے۔ ورنہ ہر دور حکومت میں اس طرح کے دعوے کئے جاتے رہے کہ بجلی کی فراہمی میں بہتری لائی جائے گی لیکن پچاس برس قبل جو صورتحال تھی آج بھی ویسی ہی ہے۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں