سٹیٹ سبجیکٹ سرٹفکیٹ سے متعلق ایکٹ

گورنر انتظامیہ کی طرف سے اگرچہ اس بات کا بار بار اعلان کیا گیا ہے کہ سٹیٹ سبجیکٹ سرٹفیکیٹ سے متعلق ایکٹ میں کسی بھی قسم کی کوئی تبدیلی نہیں لائی جارہی ہے اور نہ ہی اس میں کوئی ترمیم کی جارہی ہے لیکن اس کے ساتھ ہی جب یہ کہا جارہا ہے کہ اس کے حصول میں نرمی لائی جارہی ہے یا طریقہ کار کو تبدیل کیاجارہا ہے تو اس سے بذات خود خدشات جنم لے رہے ہیں کیونکہ جب آج تک ایسا کرنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی تو آج اچانک کیوں اس میں نرمی لانے کا خیال سرکار کو آیا۔ قانونی ماہرین کا کہناہے کہ گورنر کو کسی بھی صورت میں آئینی اختیار نہیں کہ وہ اس ایکٹ میں کوئی تبدیلی یا ترمیم لائے۔ لیکن معاملہ اس وقت مشتبہ نظر آیا جب بی جے پی کا ہر چھوٹا بڑا نیتا اس پر تبصرے کرنے لگا اور ان کی طرف سے کہا جارہا ہے کہ اس کے حصول میں نرمی لائی جارہی ہے ۔ لیکن اگر دیکھا جائے تو اس کی کسی بھی صورت میں ضرورت نہیں ہے اور اس کا حصول اب بھی آسان ہے صرف کچھ لوازمات پورے کرنے ہیں جس کے بعد ہر کوئی کشمیری باشندہ یہ سرٹفیکیٹ حاصل کرسکتا ہے۔ چنانچہ اس پر نہ صرف مین سٹریم لیڈر بلکہ مزاحمتی قیادت نے بھی پہلے ہی خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر اس ایکٹ میں کسی قسم کی تبدیلی لائی گئی یا ترمیم کی گئی تو وہ اسے ٹھنڈے پیٹوں برداشت نہیں کرینگے۔ اس بارے میں محبوبہ مفتی نے کہا کہ اگر ایسا کچھ کیاگیا تو 2008جیسی ایجی ٹیشن دوبارہ شروع کی جائے گی جبکہ سجاد غنی لون کا کہنا ہے کہ طریقہ کار میں تبدیلی کسی بھی صورت میں قابل قبول قرار نہیں دی جاسکتی ہے۔ عمر عبداللہ نے تو راج بھون فیکس کیا لیکن اس مرتبہ گورنر نے ان کو واپس جواب بھی بھیجا جس میں انہوں نے کہا کہ ریاستی انتظامیہ اس ایکٹ میں کسی بھی صورت میں ترمیم یا تبدیلی نہیں لارہی ہے اور نہ ہی گورنر انتظامیہ کا اس بارے میں کوئی ارادہ ہے۔ قانونی ماہرین نے کہا کہ گورنر کا مجوزہ اقدام ریاستی آئین سے متصادم ہے کیونکہ پشتینی باشندہ ہونے کی سند اجرا کرنے کا مجاز ضلع مجسٹریٹ یا ضلع ترقیاتی کمشنر ہوتا ہے جبکہ تحصیلدار یا نایب تحصیلدار اور پٹواری متعلقہ کی طرف سے تحقیقات کی بنیاد پر یہ سند اجرا کی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ سال 1951-52کے ووٹر فہرست کی بنیاد پر بھی مستقل رہایشی سند اجرا کی جاتی ہے اگر اس ووٹر فہرست میں عرضی دہندہ کے والد یا اجداد کا نام ہوتو یہ بھی ایک ثبوت تصور کیاجاتا ہے کہ عرضی دہندہ ریاست کا مستقل باشندہ ہے اور اسی بنیاد پر اسے سرٹفیکیٹ فراہم کی جاتی ہے۔ ماہرین قانون کا کہنا ہے کہ ریاستی گورنر کو کوئی آئینی اختیار نہیں کہ وہ اس قانون کو تبدیل کرسکیں۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ مستقل باشندوں کے اسناد کے حصول کے طریقہ کار میں تبدیلی براہ راست دفعہ 35-Aاور دفعہ 370اور دہلی معاہدے کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے۔ کیونکہ شق 35-Aکو اسی لئے آئین ہند میں شامل کیا گیا تاکہ پشتینی باشندوں کو مکمل تحفظ فراہم کیاجاسکے۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر گورنر وقتی طور پر اس میں تبدیلی لاینگے تو یہ عارضی ہوگی کیونکہ بعد میں منتخب اسمبلی کو یہ طے کرنا ہے کہ وہ اسے تسلیم کرے گی یانہیں۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ اس ایکٹ میں کسی بھی قسم کی تبدیلی لانے کی ضرورت نہیں اور اگر اس کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی گئی تو اس کے نتایج کا ابھی سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ اسلئے ضرورت اس بات کی ہے کہ اس ایکٹ کو اسی صورت میں رہنے دیا جائے جس صورت میں یہ اس وقت موجود ہے۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں