جے کے بنک اور انتظامی کونسل کا حالیہ فیصلہ

ایک مقامی خبر رساں ایجنسی کے این ایس نے باوثوق ذرایع کے حوالے سے بتایا کہ ریاستی انتظامی کونسل کے اجلاس میں جموں کشمیر بنک کو پبلک سیکٹر بنک میں تبدیل کرنے کا معاملہ پھر سے اٹھایا جائے گا اور اس بات کا امکان ہے کہ گورنر انتظامیہ کونسل کے گذشتہ اجلاس میں لئے گئے بعض فیصلہ جات پر نظر ثانی کریگی۔ کیونکہ اس بنک کو پبلک سیکٹر بنک میں تبدیل کرنے پر یہاں ہر مکتب فکر نے شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ جس کے نتیجے میں اس بات کا امکان پیدا ہوگیا ہے کہ گورنر انتظامیہ اپنے سابق فیصلے پر نظر ثانی کریگی لیکن سرکاری ذرایع نے اس کی تصدیق نہیں کی اور کہا کہ ریاستی انتظامی کونسل نے جو فیصلہ لیا ہے اس میں کسی تبدیلی کا کوئی امکان ہی نہیں ہے اس کا اندازہ اس میٹنگ سے بھی لگایا جاسکتا ہے جو کل ہی گورنر اور بینک افسروں کے درمیان ہوئی اور جس میں گورنر نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ بنک کے بارے میں جو فیصلہ لیاگیا وہ بنک کی فلاح و بہبود کو مدنظر رکھ کر ہی کیاگیا۔ کل جے کے بنک کے افسروں نے گورنر کے ساتھ ملاقات کی اور ان کو بتایا کہ گورنر انتظامیہ نے جموں کشمیر بنک کو پبلک سیکٹر ادارے میں تبدیل کرنے کا جو فیصلہ کر لیا ہے وہ کسی بھی صورت میں ان کے اور خاص طور پر کشمیری عوام کیلئے قابل قبول نہیں ہے۔ لیکن گورنر نے افسروں پر یہ بات واضح کردی کہ جموں کشمیر بنک کمپنیز ایکٹ کے تحت گورنمنٹ کمپنیز کے بطور درج ہے۔ پبلک سیکٹر انڈر ٹیکنگ کے لفظ سے کوئی فرق نہیں پڑسکتا ہے کیونکہ بینک بدستور حکومت کی ملکیت میں رہے گا۔ گورنر نے افسروں کو یہ بھی بتایا کہ بینک کے سٹیٹس میں کچھ تبدیلیاں لائی جاینگی۔ اس سلسلے میں ایک سرکاری ترجمان نے بتایا کہ یہ بینک ریاست کا اہم مالی ادارہ ہے اور اس کی ترقی ریاست کیلئے بہت اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت ان تمام اقدامات کی حمایت کریگی جن کا مقصد جموں کشمیر بینک کو ایک متحرک ادارہ بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جموں کشمیر بینک ایک پبلک اتھارٹی ہے اور یہ حق اطلاعات کے دائیرے میں آتا ہے۔ اس بارے میں بھی لوگوں نے خدشات کا اظہار کیا ہے۔ جانکار حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر بینک کو حق اطلاعات کے دائیرے میں لایا گیا ہے تو کیا یہ حق صرف انتظامی معاملات تک ہی محدود رہے گا یا اس دائیرے میں کھاتے داروں کو بھی لایاجائے گا۔ اگر ایسا ہوگا تو سب کے کھاتے منظر عام پر ہونگے اور اس سے کھاتے داروں کی سیکریسی نہیں رہ سکتی ہے۔ غرض اس طرح کے اقدامات کسی بھی صورت میں بینک اور اس سے وابستہ کھاتے داروں کیلئے سود مند ثابت نہیں ہوسکتے ہیں۔ اس بینک کو پبلک سیکٹر بینک میں تبدیل کرنے کے فیصلے سے عام لوگوں میں جو خدشات پائے جاتے ہیں ان کو دور کیاجانا چاہئے۔ جموں کشمیر بینک واقعی یہاں کے لوگوں کیلئے اہمیت کا حامل ہے اور دوسرے بینکوں کے مقابلے میں لوگ اسی بینک کو ترجیح دیتے ہیں۔ ان حالات میں گورنر انتظامیہ کو چاہئے کہ وہ عوامی خواہشات کو مدنظر رکھ کر بینک کے بارے میں مثبت فیصلے لے کرلوگوں کے ذہنوں میں پنپنے والے انتشار کو ختم کرنے میں مدد کریں۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں