انڈین لیگ فٹ بال میں رئیل کشمیر کا کھلاڑی دانش فاروق ، میری نظر میں

سرینگر/ محمد مقبول میر کیمطا بق ہندوستان میں فٹ بال کھیل کے نقشے پر انڈین فٹ بال لیگ کو آجکل کافی شہرت اور اہمیت حاصل ہو چکی ہے جس میں بیرونی ممالک کے علاوہ ہندوستان کے مختلف ٹیموں اور کلبوںکے فٹ بال کھلاڑی اپنی ماہرانہ کھیل کھیلتے نظر آتے ہیں جنہوں نے اپنی ٹیکنیکی کھیل اور اعلیٰ صلاحتوں کا بھر پور مظاہرہ کیا ہے ان ہی میں مجھے حال ہی میں موہن بھگان اور رئیل کشمیر کے درمیان کھیلے گئے میچ میں ایک ایسے اُ بھرتے ہوئے نوجوان، چمکتے ہوئے ستارے دانش فاروق سے ملاقات ہوئی جو رئیل کشمیر کے ایک اتھیلٹک باڈی رکھنے والے فرنٹ رنر وینگ مین فٹ بال کھلاڑی بھی ہیں جنہوں نے اپنے فٹ بال کھیل میں سپورٹس کیرئیر کا آغاز عید گاہ کی نامور ٹیم چنار ویلی سے کیا اور کھیل کے میدان میں کافی محنت و مشقت کے بعد اس گریجویٹ فٹ بال کھیلاڑی کو اپنی قابلیت پر جے کے بینک نے اپنے بی ڈویژن اکیڈمی کیلئے ترجیحی بنیاد پر منتخب کیا اور لگا تار دو سالوں سے اُنہوں نے فٹ بال کھیل کے میدان میں بحیثیتMid- Fielderاپنی ٹیکنیکی صلاحتیوں کا لو ہا منوایا رفتہ رفتہ بعد میں جے کے بینک کی سینئیر ٹیم میں کھیلنے کاشرف حاصل ہوا آجکل ہزاروں شایقین دانش فاروق کے دیوانے اور پروانے بن چکے ہیں آخر کارئیل کشمیر نے دو سال بعد اُنہیں اپنی ٹیم میں کھیلنے کی خصوصی دعوت دی جس میں اُنھوں نے کپتان کے فرایض بھی انجام دئیے ڈیورانڈ فٹ بال ٹورنامنٹ اور پونے مہاراشٹرا میں بھی انہوں نے اپنے بہترین کھیل کا مظاہرہ کیا حال ہی میں انڈین فٹ بال لیگ کے جتنے بھی میچ سرینگر کے آسڑو ٹرف پر کھیلے گئے میچوں میں بھی دانش فاروق نے بڑی تال میل اور ٹیکنیکی کھیل کا مظاہرہ کیا ہے ان میچوں میں رئیل کشمیر نے منرو ا پنجاب جو پچھلے سال کا دفاعی چمپین تھاکو پہلے ہی میچ میں شکست دے کر لاکھوں شایقین کے دل جیت لئے جبکہ ایک اور میچ چر چل برا درس سے ڈرا کھیلنا پڑا۔ ہندوستان کی نمبرون ٹیم موہن بھگان کے ہاتھوں رئیل کشمیر ایک گول سے ہار گئی جبکہ دونوں ٹیموں میں ایک عجیب کشمکش دیکھنے کو ملی ایک اور میچ میں Nerco F.C.نے رئیل کشمیر کو صفر کے مقابلے میں دو گولوں سے ہرا دیا۔ یاد رہے5دسمبر بدھوار کے روز رئیل کشمیر دانش فاروق کے ساتھ اسی میدان میں Aizwalنارتھ ایسٹ ٹیم کے خلاف اپنا میچ کھیل رہی ہے جس میں تقریباً15ہزار شایقین میچ سے پوری طرح لطف اندوز ہونگے۔ انڈین فٹ بال لیگ میں دانش فاروق کو 20میچوں میں اپنی کار کر د گی کا مظاہرہ کرنے کا سنہری موقعہ ملے گا۔
جس میں 10میچ بیرون ریاستوں میں انعقاد ہو گا اس کا سب سے بڑا مقصد یہ ہے کہ انڈین ٹیم کے لئے بہترین کھلاڑیوں کا سلیکشن عمل میںلایا جائے گا جس سے ہر ریاست میں اس کھیل کو کافی فروغ حاصل ہو گا ہمیں اس بات پر فخر ہے کہ کشمیر سے5ٹاپ کلاس فٹ بال کھلاریوں کو انڈین فٹ بال لیگ میں شرکت کر نے کا شرف حاصل ہوا ہے
جن میں
 دانش فاروق کے علاوہ وینگ مین جماد، مِڈ فیلڈرس فرحان، خالد اور شاہنواز جیسے چمکتے ہوئے ستارے قابل ذکر ہیں۔ ان کھلاڑیوں کو یکے بعد دیگر ے کھیلنے کا بر ابر موقع مل رہا ہے۔ موہن بھگان کے کوچ نے بھی رئیل کشمیر کی تعریف کی ہے اور اُن کے روشن مستقبل کی اُمید ظاہر کی ہے۔ رئیل کشمیر اور موہن بھگان کے میچ کا جہاں تک تعلق ہے۔ اس میچ میں دونوں ٹیمیں ایک دوسرے پر حاوی رہیں اور عجیب کشمکش کا نظارہ دیکھنے کو ملا۔ شروعات میں دونوں ٹیموں کے اسٹرایکرس نے گول اسکور کرنے کے موقعہ گنوائے جبکہ کوچنگ اصولوں کے تحت پہلے ملنے والےChancesگنوانا ٹیم کی نا کامی بن جاتی ہے۔ رئیل کشمیر کو Squareپاس کو نظرانداز کرنا چاہیے اور مِڈ فلیڈرس کو دونوں وینگ مین کو مکمل Feedingکرنی چاہئے کیونکہ ٹیم کی کامیابی اور نا کامی کا دارومدار وینگ مین پر منحصر ہے۔ رئیل کشمیر کےCustodianیعنی گول کیپر کو بھی وقت ضایع کرنے کے بجائے بال کو فوراًReleaseکرنا چاہئے تاکہ مومنٹ تیز ہو اور مخالف کھلاڑیوں کو Adjustہونے کا موقع نہ ملے۔ برازیل کی طرح4-3-3سسٹم سے کافی حد تک ٹیم مستفید ہو سکتی ہے۔ رئیل کشمیر کو Toughکھیل کھیلنا پڑے گا مگر Roughکھیل نہیں۔ بحثیت سابقہ ڈائریکٹر فزیکل ایجوکیشن ، سپورٹس رائیٹر و فٹ بال کوچ امر سنگھ کالج میری ذاتی رائے ہے کہ ہمارے کھلاڑیوں کو کسی پوزیشن کا Specialistنہیں ہونا چاہئے بلکہ آلا روانڈر بن کر کسی بھی وقت موقع پا کر گول اسکور کر لینا چاہئے اُن کے مومنٹ تیز اور Economical ہونے چاہئے اور Attackingکھیل کی شروعات کرنی چاہئے۔ کیونکہ آجکل کے کھیل میں ایک paceآچکی ہے۔ اُنہیں بال یا opponent کو واچ نہیں کرنا چاہئے بلکہSpaceکوCreateکرنا چاہئے۔ ڈربلنگ کو نظر انداز کرنا ہیInjuriesسے چھٹکارا پانے کے برا بر ہے۔ میری انڈین فٹ بال لیگ اور جے کے بینک کے سر براہوں سے پُر زور مطالبہ ہے کہ وہ تعلیم یافتہ فٹ بال کھلاڑیوں کے روشن مستقبل کا خیال رکھیں تاکہ انہیں روز گار مل سکے۔ کیونکہ بیرون ریاستوں کے کھلاڑی آجکل لاکھوں میں کھیلتے نظر آتے ہیں جب ہی ہم وادی میں بھی فٹ بال کا معیار ہتر بنا سکتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ لاکھوں شایقین میں اب فٹ بال کھیل کا وہ ذوق و شوق اور جوش و خروش لوٹ آیا ہے۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں