کشمیر پھر پارلیمنٹ میں

پارلیمنٹ میں جہاں مرکزی حکومت کی طرف سے کشمیر میں لاگو صدر راج کا بھر پور انداز میں دفاع کیاگیا وہیں پر اپویشن نے اس معاملے پر سرکار کو آڑے ہاتھوں لیا اور کشمیر میں صدر راج کے نفاذ کو جمہوریت کا قتل قرار دیا۔ اس موقعے پر ایوان میں ہنگامہ آرائی بھی ہوئی لیکن اس دوران جب وزیر داخلہ کو لگا کہ اپوزیشن کا احتجاج اب زیادہ بڑھنے لگا ہے تو انہوں نے اپوزیشن کو خاموش کروانے کی غرض سے بتایا کہ مرکزی حکومت کشمیر میں اسمبلی الیکشن کروانے کیلئے تیار ہے۔ لیکن اس پر بھی اپوزیشن نے نعرے بازی کی اور کہا کہ دراصل بقول ان کے اس ریاست میں جمہوریت کا گلہ گھونٹ دیا گیا کیونکہ جب پی ڈی پی، کانگریس اور نیشنل کانفرنس نے اکھٹے ہوکر حکومت سازی کا دعویٰ کیا اور انہوں نے محبوبہ مفتی کی حمایت کا فیصلہ کیا تو ان کو ایوان اسمبلی میں اکثریت کا موقعہ دیئے بغیر ہی اسمبلی توڑنے کا فیصلہ جمہوریت کا مذاق اڑانے کے مترادف ہے۔ نیشنل کانفرنس کے رہنمائ اور سابق وزیر اعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ اگر حکومت ہند کشمیر میں قیام امن کی خواہاں ہے اور چاہتی ہے کہ اس حساس ریاست میں اب اور زیادہ خون خرابہ نہیں ہونا چاہئے تو اسے فوری طور پاکستان اور حریت کے ساتھ بات چیت کرنی چاہئے تاکہ کشمیر جیسے دیرینہ مسلے کا کوئی نہ کوئی حل تلاش کیا جاسکے لیکن حکومت جب خاموش تماشائی بنی کھڑی ہے تو ان حالات میں امن قایم ہوگا تو کیسے ؟ انہوں نے مرکز سے کہا کہ جبر و تشدد سے آج تک کوئی بھی مسئلہ حل نہیں ہوسکا ہے اسلئے ضرورت اس بات کی ہے کہ کشمیریوں کے تئیں نر م روی کی پالیسی اختیار کی جائے تاکہ کشمیری عوام یہ سمجھ سکیں کہ بھارت ان کے ساتھ کسی بھی طرح کی زیادتیوں کا ارتکاب نہیں کررہا ہے ۔ مرکزی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے جب یہ کہا کہ کشمیر میں صدر راج کانفاذ ایک مجبوری تھی تو اپوزیشن نے اس موقعے پر شور و غل مچایا اور کہا کہ کون سی مجبوری تھی جب کہ یہ حقیقت ہے کہ بقول ان کے مرکز نے ہی کشمیر میں حالات کو بگاڑ دیا ان ریمارکس پر بر سر اقتدار بی جے پی اور اس کی حلیف جماعتوں کے ممبران نے بھی شور و غل مچایا۔ غرض ایوان پارلیمنٹ میں بھی کشمیر کا مسئلہ اٹھایا گیااور تقریباًپوری اپوزیشن نے کشمیر میں حالات پر قابو پانے کیلئے فوری طور پر بات چیت کا سلسلہ شروع کرنے کی اپیل کی۔ ادھر بھارت نے کئی برسوں کے بعد پہلی بار گجرات میں منعقد ہونے والی اعلیٰ سطحی کاروباری کانفرنس میں پاکستا ن کو شرکت کی دعوت دی ہے جس پرپاکستان نے بھی اپنا مثبت ردعمل ظاہر کیا اور کہا کہ اس ملک کا 52رکنی وفد کانفرنس میں شرکت کیلئے گجرات پہنچ جائے گا جبکہ باوثوق ذرایع سے معلوم ہوا ہے کہ ہانگ کانگ، سوئیزر لینڈ اور چین میںدونوں ملکوںکے درمیان ٹریک ٹو سطح پر مذاکرات کے کئی دور ہوچکے ہیں جن میں کافی پیش رفت ہوئی ہے۔ ان مذاکرات کے دوران جوکچھ بھی طے پایا ہے اور جس کی رپورٹ حکومت کو پیش کی گئی کیلئے یہ ضروری نہیں کہ حکومت کی طرف سے اسے قابل قبول قرار دیاجائے گا بھی یا نہیں۔ کیونکہ ٹریک ٹو سطح کے مذاکرات غیر سرکاری سطح پر کئے جاتے ہیں اسلئے ان میں جو کچھ طے پاتا ہے اس کی رپورٹ سرکا ر کو بھیجی جاتی ہے بعد میں یہ سر کار کا کام ہوتا ہے کہ آیا وہ ان سفارشات کو قبول بھی کرلے گی یانہیں ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں