کسانوں کیلئے راحت کاری کا سامان

 بھارت میں اس وقت کسان اندولن جاری ہے روز کسی نہ کسی ریاست سے کسانوں کی طرف سے خود کشی کی خبریں ملتی رہتی ہیں۔ کسانوں کے بہت سے مسایل ہیں لیکن جن ریاستوں میں کسان اندولن جاری ہے ان میں متعلقہ حکام کسانوں کو کوئی راحت پہنچانے میں لیت و لعل سے کام لے رہے ہیں۔ کسانوں کو نہ تو معیاری بیج فراہم کئے جاتے ہیں۔ نہ ہی ان کو آسان قسطوں پر قرضے دئے جاتے ہیں اور نہ ہی ان کو بر وقت ماہرانہ مشورے دئے جاتے ہیں اس طرح ان کی فصلیں متاثر ہوجاتی ہیں اور فصلیں اگانے کیلئے ان کو جتنی رقم اور کڑی محنت صرف ہوتی ہے اس کا نصف سے بھی کم حصہ فصلوں کو فروخت کرنے کے بعد کسانوں کو ملتا ہے غرض وہ قرض میں ڈوب جاتے ہیں نوبت فاقہ کشی تک پہنچتی ہے اور شاید یہی وجہ ہے کہ کسان دل بر داشتہ ہوکر خود کشی کرتے ہیں۔ لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ نہ تو ریاستی حکومتیں اور نہ ہی مرکز کسانوں کو راحت دلانے کیلئے موثر اقدامات اٹھاتی ہیں۔ ان کے ساتھ بھی سیاست کاری کی جاتی ہے غرض آج بھارت کا کسان کسمپرسی کی حالت میں پڑا ہے۔ ہماری ریاست اور خاص طور پر وادی میں بھی کہیں ایسا نہ ہو اس لئے محکمہ زراعت کو ابھی سے اس بارے میں اقدامات اٹھانے چاہئیں۔ کل ہی اخبارات میں یہ خبر شایع ہوئی ہے کہ محکمہ زراعت کے ناظم سید الطاف اعجاز اندرابی نے سیڈ ملٹی پلیکیشن فارم پد گام پورہ کا دورہ کیا۔ اس دورے کے دوران انہوں نے کہا کہ زراعت کی پیداوار میں مسلسل ترقی حاصل کرنے کیلئے معیاری بیج لازمی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب کسانوں کو اصل اور معیاری بیج فراہم کئے جائیں گے تو ان کی فصلیں بھی اچھی ہونگی جن کے دام بھی اچھے آینگے۔ انہوں نے اعلیٰ معیاری اور بہتر بیجوں کی تقسیم کاری کو لازمی قرار دیا اور کہا کہ بیجوںکی کسانوںکو فراہمی محکمے کی ترجیحات میں شامل ہیں۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ پدگامپورہ کا یہ سیڈ ملٹی پلیکیشن فارم سات ہزار کنال پر مشتمل ہے۔ اگرچہ یہ قابل تعریف ہے کہ کسانوں کو معیاری بیجوں کی فراہمی کیلئے سیڈ فارم موجود ہے لیکن یہ بھی لازمی ہے کہ کسانوں کوہر صورت میں معیاری بیجوں کے علاوہ ماہرین سے جانکاری دلوانے کی کوشش کی جائے تاکہ اگر کوئی غریب کسان بھی ہو تو بھی وہ اچھی فصلیں اُگا سکتا ہے کیونکہ جب تک کسانوں کو ماہرین کی طرف سے مفید مشورے نہیں دئے جاینگے تب تک وہ کسی بھی طور پر اچھی اور عمدہ فصل اُگانہیں سکتے ہیں اور ان کا حال بھی بھارت کے کسانوں جیسا ہوسکتا ہے اسلئے ضرورت اس بات کی ہے کہ ریاستی حکومت اس بارے میں مناسب اقدامات اٹھائے تاکہ کسانوں کو ان کی بھر پور محنت کا پورا پورا معاوضہ مل سکے۔ بصورت دیگر وہ بھی کل سڑکوں پر آنے کیلئے مجبور ہونگے۔ آبادی بڑھنے کے ساتھ ساتھ زیادہ سے زیادہ پیداوار کی ضرورت ہے اور یہ اسی صورت میں ہوسکتا ہے جب اس معاملے میں سیاست سے دور ہوکرکسانوں کو بر وقت معیاری بیج، جراثیم کش ادویات اور ماہرین کے مشورے دئے جائیں تاکہ ان کو بھی اپنی محنت اور پیسوں کیلئے مناسب معاوضہ مل سکے ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں