ہوائی کرایہ میں اضافہ ایئرلائنز والوں کی بددیانتی,

,

ائیر لائینز کی بے ظابطگیوں کا پردہ اس وقت فاش ہوگیا جب مختلف اوقات کے دوران ہوائی کرایہ کی شرحوں میں اس قدر اضافہ کردیا گیاجس کا تصور تک نہیں کیاجاسکتا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے جس کی بنائ پر گورنر کو از خود اس بات کا اعتراف کرنا پڑا کہ صرف ائر لائینز کے طریقہ کار کی وجہ سے وادی میں سیاحتی سیکٹر بری طرح متاثر ہورہاہے۔ گورنر صاحب نے بجا طور پر کہا کہ جب ہوائی کرایہ میں اچانک دوسوگنا اضافہ کیاجاتا ہے تو پھر سیاح کس طرح وادی کو رخ کرسکتے ہیں؟ اس کے بجائے وہ کسی دوسری جگہ بھی سیر کو جاسکتے ہیں۔ کیا یہ کشمیر کیخلاف بعض عناصر کی سازشوں کا نتیجہ تو نہیں ہے کہ ہوائی کرایہ کی شرحیں اچانک بڑھادی جاتی ہیں جس کیخلا ف سرکاری میشنری بھی بے بس نظر آتی ہے۔ اس سلسلے میں جو انکشافات ہوئے ہیں ان کے مطابق ائیر لائینز کی طرف سے سال یا چھ ماہ قبل ہی مخصوص ایجنٹوں کو پچاس فی صد ٹکٹیں غیر قانونی طور پر فروخت کی جاتی ہیں اور یہ ٹکٹیںایجنٹو ں کے ذریعے سیلز ایجنٹوں کو دی جاتی ہیں جو ان کو اس وقت فروخت کرتے ہیں جب وادی میں موسم نا سازگار ہوتا ہے یا سیاسی طور پر کوئی اتھل پتھل ہوتی ہے۔ سماج کے کمزور اور پچھڑے ہوئے طبقوں کی فلاح و بہبود کیلئے سرکار نے جو دو ہزار کی ٹکٹیں مخٰصوص رکھی ہوئی ہیں ان کو یہ ایجنٹ دس سے بارہ ہزار روپے تک میں فروخت کرتے ہیں جبکہ گذشتہ ایام کے دوران یہ ٹکٹیں بیس سے بائیس ہزار تک میں بھی فروخت کی گئیںکیونکہ اس وقت سرینگر جموں شاہراہ برفباری کی وجہ سے بند ہوئی تھی اور کئی ایسے لوگ تھے جن کو لازمی طور پر بیرون وادی جانا تھا جن میں طلبہ ، ملازمین اور بیمار شامل تھے لیکن ائیر لائینز والوں کی بددیانتی کی بنا پر بہت سے طلبہ انٹرویو میں شامل نہیں ہوسکے جبکہ کئی ایک مریض وقت پر دہلی پہنچنے سے قاصر رہ گئے جس کے نتیجے میں ان کو مزید پیچیدگیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ گذشتہ دنوں جب وزیر اعظم مودی وادی کے مختصر دورے پر سرینگر پہنچ گئے تھے تو لوگوں نے گورنر صاحب کی نوٹس میں یہ معاملہ لایا جنہوں نے اسی وقت یہ مسئلہ وزیر اعظم کے گوش گذزار کرنے کا وعدہ کیا اور کہا کہ جب ایسی صورتحال ہے تو سیاح کس طرح وادی کی سیر کرنے کیلئے آسکتے ہیں۔ اس بات کا بھی انکشاف ہوا ہے کہ جب ائیر لائینز کے مقرر کردہ ایجنٹ یہ دیکھتے ہیں کہ حالات کسی طرح خراب ہوگئے تو وہ صرف ایک دو دن قبل ہی ٹکٹیں فروخت کرنا شروع کردیتے ہیں اور وہ بھی زیادہ نرخوں پر۔ کوئی ان کیخلاف کاروائی نہیں کرتا ہے۔ چنانچہ اب جبکہ معاملہ گورنر کی طرف سے وزیر اعظم کے نوٹس میں لایاگیاتو اب کشمیری عوام کو اس بات کا یقین ہے کہ وزیر اعظم اس معاملے کو ہمیشہ کیلئے حل کرنے کی جانب قدم اٹھاینگے اور نہ صرف ائیر لائنز والوں کیخلاف کڑی کاروائی کی جائے گی بلکہ ان ایجنٹوں کیخلاف بھی کاروائی کی جائیگی جو لوگوں کو ہوائی ٹکٹوں کی آڑ میں لوٹتے ہیں۔ ایک بار یہ مسئلہ ہمیشہ کیلئے حل ہوجائے تو وادی میں لوگوں کو بھی راحت مل سکتی ہے اور سیاحتی سیکٹر بھی ترقیوں کے منازل طے کرسکتا ہے ۔

,
مزید دیکهے

متعلقہ خبریں