بچہ ہسپتال کا المناک واقعہ

یہ بات باعث تشویش ہے کہ سرکاری ہسپتالوں میں تعینات عملہ اس قدر غفلت شعاری کا مظاہرہ کررہا ہے جس سے انسانی جانیں چلی جاتی ہیں۔ پہلے لل دید ہسپتال کا واقعہ پیش آیا اور اب بچوں کے ہسپتال میں ایک معصوم کی جان کس طرح چلی گئی سن کر رونگھٹے کھڑئے ہوجاتے ہیں۔ ہسپتال انتظامیہ نے واقعے کے حوالے سے کئی ڈاکٹروں پر مشتمل تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی اور کمیٹی کو یہ ہدایت دی گئی کہ آج یعنی 58گھنٹے تک اس سارے معاملے کی رپورٹ پیش کی جائے۔ جس معصوم بچی کی جان ہسپتال میں چلی گئی اس کے لواحقین کا کہنا ہے کہ اس بچی کو جب ہسپتال میں داخل کیاگیا تو ڈاکٹروں نے اس کی حالت دیکھ کر اسے فوری طور ایڈمٹ کرکے انتہائی نگہداشت والے وارڈ میں رکھ دیا اور اس کا علاج معالجہ شروع کردیا گیا۔ اس بچی کے والد نے روتے ہوئے کہا کہ چونکہ اس وارڈ میں کسی کو اندر داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جاتی ہے اسلئے وہ وارڈ کے باہر ہی موجود رہے کچھ وقت کے بعد ان کو بتایا گیا کہ ان کی بچی کی جان چلی گئی جس سے ان پر غموں کے پہاڑ ٹوٹ پڑے۔ اس نے بتایا کہ جب بچی کی میت ان کو سونپی گئی تو انہوں نے دیکھا کہ اس کا ایک بازو اور ٹانگ بری طرح جھلس گئی تھی جس کی وجہ سے وہ موت کے منہ میں چلی گئی۔ اس کے والد کا کہنا ہے کہ بچی کو گرمی دینے کے واسطے اس کے سامنے بلوور رکھا گیا جس سے اس کا بازو اور ٹانگ جل گئی اور وہ موت کے منہ میں چلی گئی۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر یہ سچ ہے تو سب سے پہلے ہسپتال کی انتظامیہ سے اس بات کی جوابدہی کی جانی چاہئے کہ انہوں نے کس طرح بچوں کے انتہائی نگہداشت والے حساس وارڈ میں بلوور رکھا جو بچی کی موت کا سبب بن گیا۔ کیا آئی سی یو وارڈ میں بلوور رکھنے کی اجازت ہے وہاں توہیٹنگ سسٹم ہوتا ہے یہ بلوور کس طرح بچوں کے وارڈ میں لاکر رکھا گیا۔ اس کے بعد اس بات کی جانچ ہونی چاہئیے کہ کس ملازم نے ایسا گھنائونا کام کیا جو بچی کی موت کا باعث بن گیا یعنی اس کے نزدیک کیونکر بلوور کھا گیا۔ اگر بلوور دور رکھا جاتا تو ہوسکتا ہے کہ بچی موت کے منہ میں نہیں چلی جاتی۔ اس واقعے کے بعد جب اس بچی کے لواحقین نے احتجاج کیا تو ہسپتال انتظامیہ نے فوری طور پر تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی۔ اس طرح کی کمیٹیاں تشکیل دینے سے مسئلہ حل نہیں ہوسکتا ہے بلکہ دیکھنا یہ ہے کہ ہسپتال عملے نے کس طرح اس قدر غفلت شعاری کا مظاہرہ کیا جس سے ایک بچی زندگی کی بہاریں دیکھے بغیر ہی اس دنیا سے چلی گئی۔ اس کے والدین پر اس وقت کیا گذری ہوگی جب ان کے ہاتھ ان ہی کی بچی کی ادھ جلی لاش دی گئی اور ان کو بتایا تک نہیں گیا کہ ایسا کیونکر ہوا۔ اسلئے اس سارے واقعے میں ملوث عملہ جس میں کوئی بھی ملازم شامل ہو کیخلاف سخت سے سخت کاروائی کی جانی چاہئے لوگوں کا کہنا ہے کہ اس کو سرکاری ملازمت سے سبکدوش کرنے کے علاوہ اسے جیل بھیج دیا جانا چاہئے۔ گورنمنٹ میڈیکل کالج کی پرنسپل کو اس واقعے کا سخت نوٹس لینا چاہئے اور جیسا کہ وہ بار بار کہتی ہیں کہ ہسپتالوں میں غفلت شعاری کا مظاہرہ کرنے والوں کیخلاف سخت کاروائی کی جائے گی کو فوری طور پر ملوثین کو معطل کرکے معاملہ پولیس کے سپرد کرنا چاہئے تاکہ ان کیخلاف قتل کا مقدمہ درج کیا جاسکے۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں