انقلاب اسلامی ایران کا 40 واں جشن سالگرہ،شیخ العالم(رح) ہال بڈگام میں انجمن شرعی کے اہتمام سے سیمنار

سرینگر/انقلاب اسلامی ایران کے 40 ویں جشن سالگرہ کے موقعہ پر انجمن شرعی شیعیان جموں و کشمیر کے اہتمام سے شیخ العالم(رح) ہال بڈگام میں ایک پُروقار سیمنار کا انعقاد کیا گیا جس میں وادی کی کئی معروف دینی و سماجی شخصیات کے علاوہ مفکرین و دانشوروں کی خاصی تعداد نے شرکت کی۔ جن معززین نے انقلاب اسلامی ایران کی عظمت اور اہمیت کے حوالے سے اپنے زریں خیالات کا اظہار کیا ان میں جماعت اسلامی کے ترجمان ایڈوکیٹ زاہد علی، انجمن حمایت الاسلام کے صدر مولانا خورشید احمد قانونگو ، نائب مفتی ناصر الاسلام ، حجۃ الاسلام آغا سید یوسف الموسوی، مولوی گلزار احمد امام و خطیب نصراللہ پورہ بڈگام اور ایڈوکیٹ غلام احمد نیازی شامل ہیں۔ سیمنار کے نظامت کے فرائض حجۃ الاسلام آغا سید عدیل الموسوی نے انجام دئے، جبکہ تلاوت کلام مجید کی سعادت قاری محمد حسین نے حاصل کی۔ شبیر حسین میر نے بارگاہ رسالت میں ہدیہ نعت پیش کیا۔ سیمنار کی صدارت انجمن شرعی شیعیان کے سربراہ اور سینٔر حریت رہنما حجۃ الاسلام والمسلمین آغا سید حسن الموسوی الصفوی نے کی ۔انہوںنے ایرانی قوم و قیادت کو انقلاب کی 40 ویں سالگرہ پر ہدیہ تہنیت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ایران سے شیعیان کشمیر کی محبت اور وابستگی کی بنیاد ایران کی سرزمین یاایرانی ہم مسلک قوم نہیں بلکہ اسلامی انقلاب اور وہاں قائم نظام ولایت فقیہ ہے جس نے عصر حاضر میں مسلمانان عالم کو اپنی عظمت اور شان رفتہ کی بحالی کے تقاضوں کا احساس دلایا۔ انہوں نے کہا کہ انقلاب اسلامی ایران ایک الٰہی تحفہ ہے ۔دشمنان اسلام کی 40 سالہ منصوبہ بندیوں اور گھناونی سازشوں کے باوجود یہ انقلاب اپنی پوری شان و شوکت اور آن و بان کے ساتھ ارتقائ کی منازل طے کررہا ہے۔ آغا حسن نے کہا کہ انقلاب اسلامی ایران کی کامیابی کا سہرا ان شہدائ کے سر جاتا ہے جنہوں نے اس راہ میں اپنی عزیز جانوں کا نذرانہ پیش کیا اور آج بھی ایرانی قوم ان شہدائ کی قربانیوں کو یاد کرتی ہے۔ شہید محمد افضل گورو اور شہید محمد مقبول بٹ کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے آغا حسن نے کہا کہ کشمیری قوم کو اپنے ان مایہ ناز سپوتوں پر ناز ہے جنہوںنے تختہ دار کو چوما لیکن اپنے اصولوں سے ذرہ بر انحراف نہیں کیا۔ جماعت اسلامی کے ترجمان ایڈوکیٹ زاہد علی نے انقلاب اسلامی ایران کی عظمت بیان کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی قوم نے خود انحصاری اور خود اعتمادی کا بھر پور مظاہرہ کرکے نہ صرف ملک سے شہنشاہیت کا خاتمہ کیا بلکہ اسلامی نظام قائم کرکے ملک کو دنیا کی استعماری قوتوں کے اثرونفوذسے پاک کیا۔مولانا خورشید احمد قانونگو نے انقلاب اسلامی ایران کی عظمت و اہمیت بیان کرتے ہوئے کہا کہ حضرت امام خمینی(رح) نے اپنے کردار و عمل کو سیرت نبوی(ص) کے سانچے میں ڈال کر ملک میں اسلامی نظام قائم کرنے کی تحریک شروع کی اور قوم ان(رح) کے کردار و عمل سے متاثر ہوکر ہر قسم کی قربانیوں کیلئے آمادہ ہوئی۔انہوںنے کہا کہ حقیقی قائد کی پہچان یہ ہے کہ وہ ہمیشہ مصائب و مشکلات کا منتظر رہتا ہے نہ کہ عیش کوشی کا متمنی ۔ حضرت امام خمینی(رح) کی شخصیت میں یہ تمام خوبیاں بدرجہ اتم موجود تھیں۔حجۃ الاسلام آغا سید یوسف الموسوی نے کہا کہ انقلاب اسلامی ایران کی سب سے بڑی دین یہ ہے کہ اس انقلاب نے ملت اسلامیہ کو اسلام دشمن استکباری قوتوں کے ظلم و استحصال کے خلاف آواز بلند کرنے کی ترغیب دی۔ یہی وجہ ہے کہ استکباری قوتیں روز اول سے ہی انقلاب اسلامی ایران کو درہم برہم کرنے کی سازشوں میں مصروف ہیں۔مفتی ناصر الاسلام نے کہا کہ انقلاب اسلامی ایران دنیا کی تمام موجودہ  اسلامی تحریکوں کیلئے ایک نمونہ عمل ہے جس کی کامیابی کا راز قرآن و سنت کی پیروی ہے۔مولوی گلزار احمد نے کہا کہ حضور سرور کائنات نے مکہ میں جو نظام اسلامی قائم کیا ،انقلاب اسلامی ایران اسی نظام کی ایک تجلی ہے۔یہ انقلاب دشمنان اسلام کی تمام سازشوں کے باوجود قائم و دائم ہے۔ایدوکیٹ غلام احمد نیازی نے کہا کہ ایرانی قوم اپنے قائد کے دکھائے ہوئے راستے پر چٹان کی طرح قائم و دائم ہے۔انقلاب اسلامی ایران عصر حاضر کا سب سے بڑا انقلاب ہے جس سے دنیا کی مظلوم قوموں کی امیدیں وابستہ ہے۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں