شہید مقبول بٹ قابل سیاستدان ،مجاہد اور سفارتکار تھے:یاسین ملک، کہا بالآخر آزادی کے مقدس مشن کیلئے اپنی جان کی بازی لگائی

سرینگر/شہید بابائے قوم محمد مقبول(رح) بٹ کو جدوجہد اور قربانیوں کا مجسم اور تحریک آزادی آزادی ٔ جموں کشمیر کا بنیادی ستون قرار دیتے ہوئے محبوس محمد یاسین ملک نے کہا کہ ناجائز تسلط کے خلاف مقبول(رح) بٹ شہید نہ صرف کشمیریوں کیلئے بلکہ دنیا کی ہر اس قوم و ملت کیلئے کہ جو اپنی آزادی کی جنگ میں مصروف ہے کیلئے بھی ایک تابناک علامت بنے رہیں گے کیونکہ مقبول(رح) ہی تھے کہ جنہوں نے باطل کے سامنے سرنگوں نہ ہونے اور تازیست لڑتے رہنے کا درس دیا ۔ یاسین ملک نے کہا کہ شہید بابائے قوم کوئی عام انسان نہیں تھے بلکہ انسانوں کی اس قبیل سے تعلق رکھتے تھے کہ جن کے نزدیک اعلیٰ مقاصد کیلئے لڑنا اور جان دینا ہی سب کچھ ہوا کرتا ہے۔ مقبول(رح) بٹ ایک نظریہ ساز ، ایک مجاہد ،ایک سیاسی قائد ، ایک دانشور ، ایک عظیم قلم کار اور ایک بے لوث سفارت کار بھی تھے جنہوں نے ان سارے شعبوں میں صف اول میں رہ کر متاخرین کیلئے ان مٹ نقوش چھوڑے تاکہ عزیمت کی راہ میں جدوجہد کرتے ہوئے ان کے پائوں کسی ظلم و جبر سے نہ ڈگمگائیں ۔انہوں نے کہا کہ مقبول(رح) نے اپنے لوگوں کی آزادی کا خواب دیکھا اور اسی خواب کو شرمندۂ تعبیر کرنے کیلئے میدان عمل کا راستہ اختیار کیا اور بالآخر اسی راہ میں اپنی جان کی بازی لگاکر ابدی حیات کا مقام حاصل کرلیا۔انہوںنے کہا کہ شہید مقبول(رح) کی زندگی ،جدوجہد اور قربانیاں ہمارے لئے مشعل راہ ہیں اور یہی چیزیں ہمیں جدوجہد کی راہ میں راستہ دکھاتے رہیں گے۔شہید بابائے قوم (رح) کی جدوجہد و قربانیوں کو یاد کرتے ہوئے یاسین .ملک نے کہا کہ مقبول(رح) نے بچپن میں اپنی جدوجہد شروع کی اور ایک جوان کی حیثیت سے بھی صف اول میں رہے، جدوجہد کرتے ہوئے مہاجرت کی سنت پر بھی عمل پیرا ہوئے اور بعدازاں میدان کار زار میں واپس آکر کہ جہاں تختہ دار ان کا منتظر تھا جدوجہد جاری رکھی اور جب قربانی پیش کرنے کا وقت آیا تو اس میں بھی مقبول(رح) نے صف اوّل کا راہی بن کر دہلی کی تہاڑ جیل میں تختہ دار کو بغیر کسی غم، افسوس یا معذرت چوم لیا۔یاسین ملک نے کہا کہ مقبول(رح) بٹ نے ہمیں آزاد زندگی کے دوران جدوجہد جاری رکھنے کا درس ہی نہیں دیا بلکہ ۲۱ سال سے زائد عرصہ دہلی کی تہاڑ جیل میں گزار کر ہمیں جیلوں کے اندر سے بھی تحریک کو جاری رکھنے کا ہنر دیا۔دہلی کی جیل سے اُن کے تحریر کئے گئے خطوط ہمیں نہ صرف انکے عظیم دانشور ہونے کا پتہ دیتے ہیں بلکہ ان کے خیالات و افکار کی بالیدگی کے بھی گواہ ہیں اور آج جبکہ کشمیریوں کی جدوجہد ایک اہم مرحلے میں داخل ہوگئی ہے ہر کشمیری جوان پر لازم ہے کہ وہ کم از کم ان خطوط کا بغور مطالعہ کرے تاکہ اس پر مقبول(رح) بٹ کی عظمت واضح ہوجائے ۔ کولگام میںشہید ہوجانے والے جوانوں کو خراج عقیدت ادا کرتے ہوئے یاسین صاحب نے کہا کہ آج بھی کولگام میں پانچ مذید جوان نے شہادت پائی ہے۔ ان کا واحد قصور بھی یہی ہے کہ انہوں نے غلامی کی زنجیریں توڑ کر آزادی حاصل کرنے کی چاہ کی اور ظالموں کے خلاف نبرد آزما ہوکر جان کی بازی لگادی ۔ یاسین ملک نے کہا کہ یہ شہدائ اپنی قربانیوں سے سرزمین کشمیر اور اس کے باسیوں کو اپنا مقروض کر رہے ہیں اور یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ان قربانیوں کی حفاظت کرتے رہیںاور ان شہدائ کے مشن کو مقصد کے حصول تک جاری رکھنے کا عزم بالجزم کرلیں۔ کشمیریوں سے شہید بابائے قوم (رح) کی شہادت کے حوالے سے مشترکہ مزاحمتی قیادت کے پروگرام پر من و عن عمل کرتے ہوئے 11/ فروری کو مکمل اور ہمہ گیر ہڑتال کرنے نیز شہید بابائے قوم اور شہید محمد افضل گورو کی باقیات کی کشمیر منتقلی کی مانگ کیلئے احتجاج کرنے کی اپیل کرتے ہوئے فرنٹ چیئرمین نے کہا کہ ہمارا فریضہ ہے کہ اپنے ان محسنوں﴿شہیدوں﴾ کو یاد رکھیں اور انہیں شایان شان طریقے پر خراج عقیدت ادا کرنے کیلئے قومی اتحاد و اتفاق کا مظاہرہ کرتے رہیں۔                        

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں