ٹورسٹ انڈسٹری بحران میں مبتلا

لیتہ پورہ فدائین حملے کے بعد وادی میں سیاحتی سیکٹر تباہی کے دہانے پر پہنچ گیا ہے یہ صورتحال نہ صرف سیاحت سے جڑے لوگوں کےلئے باعث تشویش بنی ہوئی ہے بلکہ عام کشمیری کےلئے بھی یہ حالات پریشان کن ہیں کیونکہ ہر کشمیری بلاواسطہ یا بلواسطہ کسی نہ کسی طرح سیاحت سے وابستہ ہے۔ سال 1990سے یہاں ملی ٹینسی کا آغاز ہوا ہے اور تب سے ہی سیاحت بھی بری طرح متاثر ہوئی ہے لیکن پھر بھی سیاح اب تک یہاں آتے رہے اور اس وادی کے قدرتی اور حسین و جمیل نظاروں سے لطف اندوز ہوتے رہے۔ ان تیس برسوں کے دوران کبھی کبھی حالات کچھ زیادہ ہی بگڑ گئے لیکن اس کے باوجود یہ شعبہ اس قدر بحرانی کیفیت میں مبتلا نہیں ہوا جتنا یہ آج ہوا ہے۔ اس کی وجوہات کا خلاصہ کل ہی ٹورسٹ ٹریڈرز کی طرف سے ایک پریس کانفرنس میں کیا گیا۔ اس پریس کانفرنس میں بتایا گیا کہ جب سے لیتہ پورہ کا واقعہ رونما ئ ہوا تب سے ایک بھی ٹورسٹ نے یہاں کا رخ نہیں کیااور اسطرح ٹورسٹ انڈسٹری پوری طرح ٹھپ ہوکر رہ گئی۔ اس کی سب سے بڑی وجہ ان نیوز چینلز کا رول رہاہے جو پورے ملک میں کشمیریوں کےخلاف لوگوں کے دلوں میں زہر اگل رہی ہیں۔ ان نیوز چینلوں میں ایسے لوگوں کو بحث مباحثوں میں بلایا جاتا ہے جن کے دلوں میں کشمیریوں کےخلاف نفرت بھری ہوئی ہے ان مباحثوں میں وہ کشمیراور کشمیریت کو گالیاں دے دے کر خود کو دیش بھگت ظاہر کرنے کی ناکام کوششیں کرتے ہیں ورنہ لوگوں کو ان کے بارے میں پوری معلومات حاصل ہیں کہ وہ کس قبیل کے لوگ ہیں اور ان کی کیا حیثیت ہے۔ ان نیوز چینلوں کے مالکان اُن ہی افراد کو بلاتے ہیں جن کو سماج او ر سوسائیٹی میں کوئی عزت و وقار نہیں۔ ان نیوز چینلوں کے ذریعے بھارتی عوام میں کشمیر کے بارے میں اسقدر بے بنیاد پرو پاگنڈا کیا جاتا ہے کہ عقل حیران رہ جاتی ہے ۔ جب لوگ یہ سنتے ہیں تو ظاہر ہے کہ وہ یہاں کا سوچ بھی نہیں سکتے ہیں۔ چنانچہ مارچ کےلئے جو حد سے زیادہ بکنگ تھی وہ سب کینسل کردی گئی اس میں ممبئی کے ایک بدنام ٹور اوپریٹر کا گھناونا رول رہا ہے جس کے بارے میں پریس کانفرنس میں بتایا گیا کہ اس نے تمام ٹور اوپریٹرس کو دھمکیاں دینی شروع کردیں کہ اگر انہوں نے کسی بھی بھارتی شہری بہ الفاظ دیگر وزیٹر کو کشمیر لے لیا تو ان کی خیر نہیں ۔ شخص مذکورہ حکمران جماعت کا ایک بدنام زماں شخص ہے ۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ لیتہ پورہ حملے کے بعد ملک کی مختلف ریاستوں میں کشمیریوں پر حملوں میں جو لوگ ملوث ہیں ان میں مذکورہ شخص بھی شامل ہوسکتا ہے ۔ چنانچہ یہاں ٹورسٹ ٹریڈ سے وابستہ لوگوں نے اس بات کا فیصلہ کیا ہے کہ وہ شخص مذکورہ کا بائیکاٹ کرینگے اور اس کے ساتھ کسی بھی طرح کا لین دین نہیں کرینگے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے گورنر سے اپیل کی ہے کہ وہ کشمیر ٹوارزم کو بچانے کےلئے ہر ممکن اقدام کریں اور ایسے لوگوں کےخلاف سخت کاروائی کی جائے جو بلاوجہ کشمیر اور کشمیریوں کےخلاف بھارتی عوام میں زہر گھول رہے ہیں ان میں وہ نیوز چینلیں بھی شامل ہیں جن کا کام ہی صرف کشمیریوں کو گالیاں دینے تک محدود ہے ۔ اگرچہ اس طرح وہ اپنے آقائوں جن کے وہ تنخواہ دار ہیں کی حق ادائی کرتے ہیں لیکن دوسری جانب ان کا طرز عمل انتہائی بدبختانہ ہے جس پر فوری طور روک لگائی جانی چاہئے ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں