فوجی کانوائے کے دوران ایمبولنس اور سکول گاڑیوں پر پابندیاں

14فروری کو لیتہ پورہ خود کش حملے کے بعد سیکورٹی کے حوالے سے وزارت دفاع نے کئی مثبت اقدامات کا اعلان کیا اور سب سے بڑا قدم یہ اٹھایا گیا کہ کانواے کے وقت کسی بھی دوسری گاڑی کو چلنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ جہاں تک فدائی حملے کا تعلق ہے تو فورسز، پولیس اور فوج کی سلامتی کو یقینی بنانے کےلئے وزارت دفاع کو اقدامات کرنے کا پورا پورا حق ہے یہ اقدام اسلئے اٹھایا گیا تاکہ اس طرح کا فدائی حملہ دوبارہ رونما نہ ہونے پائے لیکن سیکورٹی کی آڑ میں ٹریفک پر جو پابندیاں عاید کردی گئیں ان سے لوگوں کو حد سے زیادہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔ آج کے طوفانی دور میں جہاں ہر ایک کو مطلوبہ جگہ تک پہنچنے کی جلدی ہوتی ہے تو جب ان کو گھنٹہ ڈیڑھ گھنٹہ ایک ہی جگہ رکنے کا حکم دیاجائے گا تو لوگوں کو مشکلات پیش نہیں آینگی تو کیا ہوگا۔ خاص طور پر بچے لے کر جانے والی سکول گاڑیاں کبھی بھی وقت پر سکول نہیں پہنچ پاتی ہیں جس کے نتیجے میں ان بچوں کی پڑھائی پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اس بارے میں پرائیویٹ سکولوں کی انجمنوں کے سربراہوں نے اپنے الگ الگ بیانات میں اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ سکول بسوں کو بھی روکا جارہا ہے جس سے بچے ایک تو خوفزدہ ہوجاتے ہیں اور دوسری بات یہ ہوتی ہے کہ بچے کبھی بھی وقت پر سکول نہیں پہنچ پاتے ہیں۔ انہوں نے اس بارے میں گورنر کے مشیر کو آگاہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ کانواے کے دوران سکول بسوں کو چلنے کی اجازت دی جائے ۔ اسی طرح ایمبو لنس کا بھی معاملہ ہے کیونکہ فورسزاہلکار اور فوجی کانوائے کے وقت کسی بھی ایمبولنس کو آگے بڑھنے کی اجازت نہیں دیتے ہیں خواہ اس میں کوئی حساس مریض، حاملہ یا ایکسیڈنٹ کیس ہی کیوں نہ ہو۔ اگر مریض کو وقت پر طبی امداد نہیں دی جائیگی تو اس کی حالت کیا ہوسکتی ہے اس کا اندازہ ہم سب لگاسکتے ہیں۔ سیکورٹی کے نام پر اگرچہ کچھ بھی کیاجاسکتا ہے لیکن سکول بسوں اور ایمبولنس کو ان پابندیوں سے مثتثنیٰ قرار دیاجانا چاہئے۔ کیونکہ ایک تو بچوں کی پڑھائی کا معاملہ ہے اور دوسری بات بیماروں، حاملہ خواتین اور ایکسیڈنٹ کیسوں کا ہے کہ اگر ان کو فوری طور پر ہسپتال نہیں پہنچایا جائے گا تو ان کی موت یقینی ہوسکتی ہے۔ وادی میں سال 1990سے ملی ٹینسی شروع ہوئی ہے۔ یہاں بڑے پیمانے پر ہلاکتیں ہوئی ہیں جبکہ لاکھوں کروڑوں کی جائیدادیں تباہ ہوئی ہیں۔ ہر سڑک ہر گلی پر چاہے شہر ہو یا قصبہ گائوں ہو یا بازار ہر طرف اور ہر جگہ فورسز کا کڑا پہرہ رہتا ہے۔ لیکن آج تک ایسا نہیں کیا گیا کہ سکول بسوں اور ایمبولنس گاڑیوں پر کسی بھی طرح کی پابندیاں لگائی گئی ہوں لیکن یہ پہلی مرتبہ ہے کہ سکول بسوں اور ایمبولنس کو پابندیوں کے دائیرے میں لایا گیا۔ اسلئے گورنر انتظامیہ کو یہ معاملہ فوجی حکام کے ساتھ اٹھانا چاہئے اور یہ بات یقینی بنائی جانی چاہئے کہ سکول گاڑیوں اور ایمبولنس کو آگے بڑھنے سے روکا نہ جائے اور ان کی نقل و حمل پر کوئی پابندی عاید نہیں کی جائے۔ معزز شہریوں کے ایک وفد نے بتایا کہ وہ اپنے بچوں کے مستقبل کے حوالے سے فکر مند ہیں کیونکہ وہ کبھی بھی وقت پر سکول نہیں پہنچ پاتے ہیں۔ انہوں نے گورنر سے اپیل کی ہے کہ وہ اس بارے میں فوری مداخلت کریں ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں