تعمیراتی کام ٹھپ

اس وقت وادی بھر میں تعمیر و ترقی کے کام رُکے پڑے ہیں۔ پورے شہر کی سڑکیں خستہ حالت میں ہیں جبکہ کوئی بھی دوسرا تعمیراتی کام نہیں ہورہا ہے جس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ٹھیکیدار سڑائیک پر ہیں جبکہ اس کے ساتھ ہاٹ مکس پلانٹ اونرس بھی ہڑتال پرہیں اور انہوں نے پلانٹ بند کئے ہیں۔ اس سے قبل ان ہی کالموں میں حکومت کی توجہ شہر کی خستہ حال سڑکوں کی طرف مبذول کروائی گئی لیکن اس کے باوجود سڑکوں کی تعمیر و تجدید کی طرف کوئی توجہ نہیں دی جارہی ہے۔ نتیجے کے طور پر لوگوں کی مشکلات اس حوالے سے دن بدن بڑھتی جارہی ہیں جبکہ ٹرانسپورٹر بھی احتجاج کررہے ہیں لیکن کوئی بھی سننے کےلئے تیار نہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ دربار کے ساتھ ہی سب کچھ جموں چلاجاتا ہے اور حاکم لوگ کشمیر کو بھول جاتے ہیں۔ جیسا کہ پہلے ہی لکھا جاچکاہے کہ شہر کی ایک بھی سڑک ایسی نہیں جو قابل آمد ورفت ہو۔ ہر سڑک پر گہرے کھڈ پڑ گئے ہیں جن کے نتیجے میں گاڑیاں چلانا بھی مشکل بن گیا ہے۔ کئی سڑکیں اس قدر خستہ حالت میں ہیں کہ ان پر ٹرانسپورٹروں نے بس سروس معطل کردی ہے۔ سڑکوں کی خستہ حالت کےلئے کوئی ذمہ وار نہیں بلکہ یہ سب اس سال کی زبردست برفباری کی وجہ سے ہوا ہے۔ کیونکہ موسم سرما میں اس قدر برفباری ہوئی جس نے پچھلے تیس پنتیس برسوں کا ریکارڈ توڑ دیا۔ سڑکوں کی تباہی کی بنیادی وجہ یہی ہے۔ اور برفباری سے ہی سڑکیں برباد ہوگئیں لیکن اب ان کی تعمیر و تجدید کی ضرورت ہے لیکن اس بارے میں حکومت کی خاموشی باعث تعجب ہے اب حقایق آشکارا ہونے لگے ہیں کیوںکہ حکومت کی طرف سے ٹھیکیداروں اور ہاٹ مکس پلانٹ اونرس کے حق میں ابھی تک واجب الادا رقومات واگذار نہیں کی گئی ہیں جس کی بنا ئ پر ٹھیکیدار بھی اور ہاٹ مکس پلانٹ اونرس بھی ہڑتال پر چلے گئے ہیں وادی میں تمام ہاٹ مکس پلانٹ بند پڑے ہیں جس کے نتیجے میں ان کی مالی حالت انتہائی قابل رحم بن گئی ہے۔ انہوں نے ہڑتال پر جانے کی وجوہات کے بارے میں کہا کہ حکومت نے ان کی واجب الادا رقم واگذار نہیں کی ہے جس کی بنائ پر ان کوشدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میگڈم بنانے کےلئے درکار میٹیریل بازار سے نقد رقومات کے عوض خریدنا پڑتا ہے لیکن ان میں اتنی استطاعت نہیں رہی کہ وہ بازار سے میٹیریل خرید سکیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت جب تک واجب الادا رقومات واگذار نہیں کرے گی ان کےلئے کام کرنا مشکل ہی نہیں بلکہ نا ممکن بھی ہے۔ اسی طرح ٹھیکیدار بھی گذشتہ ایک ماہ سے ہڑتال پر ہیں۔  وہ روزانہ شہر میں جلسے جلوس نکالتے ہیں۔ مظاہرے کرتے ہیں دھرنے دیتے ہیں لیکن حکام کے کانوں میں جیسے روئی ٹھونسی ہوئی ہے کوئی ان کی آواز سنتا ہی نہیں ہے نتیجے کے طور پر وادی میں تعمیر و ترقی کے کام رکے پڑے ہیں۔ کئی بڑے بڑے پروجیکٹ جو تکمیل کے مراحل سے گذررہے تھے اس وقت ادھورے پڑے ہیں۔ اگر وہ مکمل ہوجاتے تو نئے پروجیکٹ شروع کئے جاسکتے تھے لیکن جب پرانے پروجیکٹ ہی تشنہ تکمیل ہیں تو نئے پروجیکٹ کس طرح شروع ہونگے۔ اسلئے ریاستی حکومت خاص طور پر گورنر انتظامیہ کو چاہئے کہ وہ ٹھیکیداروں اور ہاٹ مکس پلانٹ اونرس کے مسایل و مطالبات حل کریں ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں