گوگل ڈاکٹر معالج نہیں بن سکتا

موجودہ ترقی یافتہ دور میں نوجوان زیادہ سے زیادہ انٹر نیٹ کا استعمال کرنے لگے ہیں کیونکہ یہ اب وقت کی ضرورت بن گیا ہے اور اس کے بغیر اب زندگی پھیکی لگنے لگے گی۔ پڑھائی کے ساتھ ساتھ کاروبار اور طب کے میدان میں بھی انٹرنیٹ کو کافی اہمیت دی جارہی ہے۔ اگرچہ اب ہر معاملے میں انٹر نیٹ سے رجوع کیا جارہا ہے لیکن جب صحت کی بات آتی ہے تو اس معاملے میں حد درجہ احتیاط برتنے کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ صحت کے معاملے میں کسی سمجھوتے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ہے۔ وادی میں ڈاکٹرس ایسوسی ایشن ڈاکٹروں کی معتبر تنطیم تصور کی جاتی ہے اور اسی تنظیم کے صدر ڈاکٹر نثا رالحسن نے اخبارات کے نام ایک بیان میں پتے کی بات کہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گوگل کو لوگ اپنا معالج نہ مانیں کیونکہ بقول ان کے انٹر نیٹ علاج مضر بھی ہوسکتا ہے۔ اس کی وضاحت کرتے ہوئے ڈاکٹر موصوف نے لوگوں کو مشورہ دیا کہ وہ انٹر نیٹ پر اپنے امراض کاعلاج نہ ڈھونڈیں کیونکہ بقول ان کے یہ ایک ایسی مشق جس سے مریض کو فایدہ پہنچنے کے بجائے نقصان ہی پہنچ سکتا ہے۔ اور بغیر مریض کو دیکھے اور سمجھے کسی مرض کی تشخیص اور علاج نا ممکن ہے۔ انہوں نے لوگوں کو مشورہ دیا کہ وہ گوگل انٹر نیٹ پر اپنے امراض کی تشخیص تلاش کرنے کے بجائے متعلقہ ڈاکٹروں سے مشورہ کرلیں۔ انہوں نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ وادی کے لوگ اب زیادہ سے زیادہ انٹر نیٹ کا استعمال کرتے ہیں اور اپنی بیماریوں کا علاج اسی میں تلاش کرتے ہیں جو بذات خود ایک خطرنا ک عمل ہے۔ انہوں نے کہا کہ گوگل ڈاکٹر کا متبادل فراہم نہیں کرسکتا ہے۔ یہ سچ ہے کہ بہت سے لوگ دوسروں پر اپنی دھاک بٹھانے کےلئے مختلف بیماریوں کا علاج تجویز کرکے فخر سے کہتے ہیں انہوں نے انٹرنیٹ پر اس مرض اور اس کے علاج کے بارے میں مکمل جانکاری حاصل کرلی ہے۔ روز بروز یہ رحجان بڑھتا جارہا ہے جو کہ صحت کے حوالے سے کافی خطر ناک رُخ اختیار کرسکتا ہے ۔ ڈاکٹر موصوف کا کہنا ہے کہ ایک مرض کی نشانی دوسرے کسی مرض کی طرف اشارہ ہوسکتی ہے۔ اگر کسی کے سر میں درد ہے تو یہ مائیگرین یا سائینو سائٹس بھی ہوسکتا ہے اور گوگل کے ذریعے سر درد کے علاج سے برین ٹیو مر بھی ہوسکتا ہے۔ ڈاکٹر موصوف کے ان انکشافات کے بعد لوگوں کو چاہئے کہ وہ واقعی گوگل کو اپنا ڈاکٹر تصور نہ کرتے ہوئے کسی بھی بیماری کے علاج کےلئے معالج سے مشورہ کریں۔ یہاں ہماری سوسائیٹی میں ایک عام سی بات ہے کہ کسی بھی گائوں یامحلے میں جو دوا فروش ہوتا ہے اسی کے پاس جاکر لوگ اپنا علاج کرواتے ہیں۔ آج بھی ایسا ہوتا ہے اور پچاس سال پہلے بھی اسی طرح لوگ کمپاونڈروں کے پاس جاکر اپنا علاج کرواتے ہیں۔ یہ کمپاونڈر لوگوں کو جو ادویات تجویز کرتے ہیں ان سے وقتی طور پر مریض کو افاقہ ہوتا ہے لیکن کیا پتہ بعد میں اس کے کیا نتایج بر آمد ہوتے ہیں۔ اسلئے لوگوں کو صحت کے حوالے سے لاپرواہی کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہئے۔ نہ تو نیم حکیموں کے پاس جانے کی ضرورت ہے اور نہ ہی گوگل کو اپنا معالج بنانا چاہئے کیوںکہ صحت کے معاملے میں لاپرواہی نہیں برتنی چاہئے۔ صحت ایک انمول شے ہے جس کی طرف خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں