سرکاری سکولوں میں دینیات پڑھائی جائے,

,

تقریباًچالیس پچاس بر س قبل جب وادی میں انگلش میڈیم سکولوں کا کہیں نام و نشان تک نہیں تھا۔ صرف دو چار مشنری سکول تھے اور انجمن نصرۃالاسلام کے تحت کئی مقامات پر اسلامیہ سکول چلائے جارہے تھے جہاں بچوں کو مروجہ تعلیم کے علاوہ دینی تعلیم بھی دی جاتی تھی۔ لیکن جو سرکاری سکول وادی کے طول و عرض میں تھے اورجہاںبچوں کی اکثریت پڑھتی تھی میںدینیات بھی پڑھائی جاتی تھی۔ دینیات کےلئے تمام سرکاری سکولوں میں ایک مخصوص پیریڈ ہوا کرتا تھا جبکہ پنڈت بچوں کےلئے اسی پیریڈ میں سنسکرت اور گیتا پڑھانے کا بھی انتظام تھا ۔اس کےلئے مخصوص اساتذہ کی تقرری عمل میں لائی جاتی تھی ۔اس سے کیا ہوتا تھا کہ بچے دین، مذہب اور اخلاقیات سے باخبر ہوتے تھے ۔ ان کو اچھے آداب و اخلاق بھی سکھائے جاتے تھے۔ نمازوں کی ادائیگی اور دوسرے دینی امور کے بارے میں بچوں کو مکمل جانکاری دی جاتی تھی۔ اس سے کیاہوتا تھا کہ بچے جہاں دینی امور سے واقف ہوتے تھے اس کے ساتھ ہی وہ اخلاق و آداب اور تہذیب سے بھی آشنا ہوتے تھے۔ بڑے بزرگوں، والدین، دوست احباب اور اساتذہ کے ساتھ کس طرح پیش آنا چاہئے۔ اخلاقیات کسے کہتے ہیں اس کی انسانی زندگی میں کیا اہمیت ہوتی ہے غرض ان کو سب کچھ سرکاری سکولوں میں سکھایا اور پڑھایا جاتا تھا۔ بدتمیزی، گستاخی اور بات بات پر غصے کا اظہار اُس وقت کے بچوں کو معلوم ہی نہ تھا۔ اساتذہ کی توقیر و عزت اوروالدین کا احترام ہر چیز پر مقدم سمجھا جاتا تھا اور اس کے علاوہ دینی امور سے بھی بچے پوری طرح واقفیت حاصل کرتے تھے اور اس کے بعد اُن کے بچے بھی یہی کچھ سیکھتے تھے غرض ایک صحت مند سماج جنم لیتا تھا جس کی ہر طرف تعریفیں ہوتی تھیں۔ لیکن زمانہ جوں جوں آگے بڑھتا گیا اخلاق و اقدار کا جنازہ نکلتا گیا۔ سب سے پہلے سرکاری سکولوں میں دینیات پڑھانے کا سلسلہ ختم کردیا گیا۔ اس کے ساتھ ہی انگلش میڈیم سکولوں کا جال ہر طرف پھیلتا گیا۔ لیکن ان انگلش میڈیم سکولوں کی انتظامیہ نے دینیات پڑھانے کا کوئی انتظام نہیں کیا۔ ہوسکتا ہے کہ اسوقت دو چار انگلش میڈیم سکولوں میں دینیات پڑھانے کا انتظام ہو لیکن 99فی صد سکولوں میں ایسا کوئی انتظام نہیں جس کے نتیجے میں ہم دیکھ رہے ہیں کہ کشمیری سماج کس تباہی اور بر بادی کی طرف جارہا ہے۔ ہر قوم کا مستقبل ان کے نوجوان ہوتے ہیں لیکن ہمارے اس وقت کے نوجوانوں سے ہم کو کوئی امید نہیں رکھنی چاہئے کیوںکہ اخلاق و آداب ان کو چھو کر بھی نہیں گئے ہیں۔ ادب و احترام وہ جانتے نہیں۔ اگر آج کل کے نوجوانوں میں کوئی دین سے واقف ہوگا تو اس کا سہرہ اس کے والدین کو جاتا ہے جنہوں نے اپنے بچوں کو دین کے بارے میں جانکاری دی ہے ورنہ آج کے والدین بچوں کو زیادہ سے زیادہ مروجہ تعلیم کی طرف توجہ دینے کےلئے ان پر دبائو ڈالتے ہیں۔ اگرچہ یہ کوئی بری بات نہیں لیکن اگر لوگ بچوں کو دین کے معاملات سے بھی آگاہ کراتے تو اس سے نہ صرف ان کی آخرت سنور جاتی بلکہ بچے بھی آگے چل ہر میدان میں کامیابی اور کامرانی کے جھنڈے گاڑتے۔ آج کے نوجوانوں کا چال چلن، لباس، بالوں کا سٹایل وغیرہ کسی بھی طور پر قابل قبول نہیں ہوسکتا کیوںکہ انہوں نے اپنا ماضی بھلادیا ۔ اپنے اسلاف کے بتائے ہوئے راستوں سے وہ منحرف ہونے لگے ہیں یہی وجہ ہے کہ آج کے نوجوان ان بری عادتوں کے شکار ہوگئے ہیں جن کے بارے میں سوچ کر بھی سر شرم سے جھک جاتے ہیں ۔

,
مزید دیکهے

متعلقہ خبریں